تحریر : عمران چنگیزی

کوئٹہ میں زرغون روڈ پر چرچ پر ہونے والا خود کش حملہ اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر پہلا حملہ نہیں بلکہ ماضی میں اس سے قبل بھی ایسے واقعات ہوچکے ہیں مگر آفرین ہے پاکستانی قوم کو جس نے بلا تفریق مذہب و مسلک ہمیشہ اپنے اتحاد و یکجہتی سے مذہبی منافرت اور مسلکی انتشار پھیلانے کی پاکستان ‘ اسلام اور عوام دشمنوں کی ہر سازش کوہمیشہ ناکام بنایا ہے مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ ملک میں دہشتگردوں کیخلاف جاری فوجی آپریشن ‘سخت ترین سیکورٹی اقدامات و انتظامات اور پولیس و رینجرز کی موجودگی کے باجود دہشتگرد اسلحہ و گولہ بارود سمیت اپنے اہداف تک پہنچنے میں کس طرح کامیاب ہوجاتے ہیں وہ کونسی سلیمانی ٹوپی ہے جو ہمیشہ مسلح دہشتگردوں کو قانون نافذ کرنے اور امن و امان قائم رکھنے والو ں کی نگاہوں سے اوجھل بناکر انہیں اس مقام تک لیجاتی ہے جہاں انہوں نے تخریبی کاروائی کرنی ہوتی ہے جبکہ ایک عام آدمی چرس کی ایک سگریٹ جیب میں رکھ کر بھی نکلتا ہے تو کسی نہ کسی ناکے ‘ چوکی یا پولیس کی جانب سے لگائی کسی نہ کسی پکٹ پر پکڑا یا دھر لیا جاتا ہے اور بنا ءجیب خالی اور اہلکاروں کی جیب گرم کئے نجات نہیں پاتا ۔
کوئٹہ میں زرغون روڈ پر واقع چرچ کے حوالے سے بھی ایسے ہی شواہد سامنے آئے ہیں کہ چرچ پر چار مسلح دہشتگردوں نے حملہ کیا ایک نے خود کو چرچ کے اندر دھماکے سے اڑالیا ‘ دوسرے کو سیکورٹی فورسز نے چرچ کے گیٹ پر ہی مارگرایا جبکہ دو دہشتگرد فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جب یہ بات عوام کی سمجھ سے باہر ہے کہ اسلحہ سمیت چرچ آنے والے دہشتگرد کون سی خفیہ سرنگ سے چرچ تک پہنچے اور اسلحہ ہاتھوں میں دبائے فارئرنگ کرتے ہوئے کس خفیہ کان کے ذریعے غائب ہوگئے کہ نہ تو آتے ہوئے کسی کو دکھائی دیئے اور نہ ہی جاتے ہوئے کوئی نام و نشان چھوڑا ۔
چرچ پر دہشتگردوں کے اس حملے میں ایک خاتون سمیت نو افراد جاں بحق جبکہ45سے زائد زخمی ہوئے جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ہلاک شدگان کے لواحقین کیلئے 10لاکھ روپے فی کس اور شدید زخمیوں کیلئے 5لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان کرکے حکومتی نا اہلی پر روایتی پردہ ڈالنے کا اہتمام تو کر ہی دیا ہے مگر عوام کے دلوں میں پیدا ہونے والے اس شک کو اذہان سے نکالنے میں ناکام رہے ہیں کہ کوئی طاقت ہے جو دہشتگردوں کیلئے سلیمانی ٹوپی کا کام انجام دے رہی ہے اور ان مسلح دہشتگردوں کو باآسانی ان کے اہداف تک پہنچارہی ہے ۔ روایت کے مطابق سولین و فوجی قیادت اور حکومت واپوزیشن کی جانب سے دہشتگردی کی اس واردات کیخلاف مذمتی بیانات اور دہشتگردوں کی کمر توڑنے کے بیانات کا روایتی سلسلہ جاری ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ یہ تمام بیانات اور اعلانات نہ تو دہشتگردی میں جاں بحق ہونے والوں کو زندگی لوٹاسکتے ہیں ‘ نہ زخمیوں کے زخموں کی ٹیس مٹاسکتے ہیں اور نہ ہی کسی کے بچھڑ جانے کے غم کا مداوا کرسکتے ہیں !
یہ سب صرف سیاست کرسکتے ہیں اور سیاست کررہے ہیں !
کہا جاتا ہے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے پھر بھی حکمران بھارت سے دوستی اور اس سے تجارتی و کرکٹ تعلقات کی بحالی کیلئے مرے جارہے ہیں ۔
پھر کہا جاتا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال ہورہی ہے پھر بھی ہم افغانیوں کی واپسی کے معاملے پر سیاسی تجاہل کا شکار ہیں اور افغانستان سے بہتر تعلقات کیلئے دہشتگردی کے ہر گھا¶ کو مسلسل برداشت کررہے ہیں ۔
یہ اعلان ہوتا ہے کہ کالعدم تنظیمیں اور مذہبی جماعتیں دہشتگردوں کی معاونت کار ہیں مگر اس کے باوجود ہر کالعدم تنظیم ببانگ دہل ملک میں جلسے جلوس کرتی ہے اور ان کی قیادتیں نت نئے ناموں سے اپنا کام کررہی ہیں کوئی انہیں روکنے والا نہیں ہے ۔
بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ جب بھی شریف خاندان یا نواز لیگ مشکل میں آتی ہے ملک میں دہشتگردی شروع ہوجاتی ہے تو پھر ادارے نواز لیگ کے دہشتگردوں سے رابطوں کے حوالے سے تحقیقات کیوں نہیں کرتے اور اگر نواز لیگ کا ایسا کوئی کردار نہیں ہے تو پھر میاں نوازشریف خود کو آگے بڑھ کر دہشتگردوں کیخلاف کاروائی کیلئے ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی نہیں کراتے !
صرف اسلئے کہ دہشتگردی بازاروں میں ہو ‘ عوامی مقامات پر ہو‘ جلسے یا جلوس میں ہو ‘ مسجد میں ہو ‘ مندر میں ہو ‘ گروارے یا چرچ میں ہو یا اس کا نشانہ امام بارگاہ ہو دہشتگردی میں نشانہ ہمیشہ عوام بنتے ہیں یا وہ چھوٹے اہلکار اس کی زد میں آتے ہیں جن کا تعلق عوام سے ہوتا ہے اس لئے اقتدار و اختیار کے مزے اڑانے والے بے فکر ہیں اور اپنے اپنے مفاد کیلئے اعلانات و بیانات کا کھیل کھیل رہے ہیں مگر انہیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ خوش فہمی اور خوش گمانی نقصان دیتی ہے کبوتر کے آنکھیں موندلینے سے بلی کا خطرہ ٹل نہیں جاتا اور حقیقی اقدامات کے بجائے محض بیانات و اعلانات کا کھیل دہشتگردوں کے حوصلے اس طرح بڑھا رہا ہے کہ کل وہ ان مقامات کو بھی نشانہ بناسکتے ہیں جو بیانات دینے اور اعلانات کرنے والوں کی محفوظ پناگاہیں یا ان کی اجتماع گاہیں ہیں اسلئے ایسا وقت آنے سے قبل ہی اگر آخری دہشت گرد کو بھی جلد سے جلد ختم کردیا جائے تو یہی ان بیانات دینے اور اعلانات کرنے والوں اور ان کے خاندانوں اور عوام و ان کے خاندانوں کیلئے بہتر ہوگا !
وگرنہ دہشتگردی کیخلاف جنگ آخری دہشتگرد کے خاتمہ تک جاری رہے گی !
کا بیان تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ” دہشتگردی کیخلاف جنگ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہے گی مگر اس سے قبل دہشتگرد آخری انسان اور آخری محافظ تک کو شکار کر چکے ہوں گے “۔!

Please follow and like us: