ہندوستان سلامتی کونسل میں کشمیر کے الحاق سے دستبردار ہو چکا ہے۔رائے شماری ‘ہندوستان کا کشمیریوں ،پاکستان اور عالمی برادری سے کیا گیا عہد ہے!

برسلز (ڈیلی پیغام )جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کےڈپلومیٹک کونسل کے ممبرسینیر راہنما سردار نسیم اقبال ایڈووکیٹ نے کہا کہ جموں کشمیر میں بھارتی اور پاکستانی افوج کی موجودگی غاصب افوج کی حیثیت سے ہے، مسئلہ کشمیر پہلے دو فریقی تھا جو بعد میں سہہ فریقی اور پھر اقوام متحدہ کی صورت عالمی مسئلہ بن گیا،ہندوستان سلامتی کونسل میں کشمیر کے الحاق سے دستبردار ہو چکا ہے،رائے شماری ہندوستان کا کشمیریوں ،پاکستان اور عالمی برادری سے کیا گیا عہد ہے،کشمیریوں کو مسئلہ کشمیر پر اپنا بیا نیہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔ سردار نسیم اقبال ایڈووکیٹ نے کہا کہ مہاراجہ نے26اکتوبر1948کو گورنر جنرل انڈیا کے نام خط میں فوج بھیجنے کی درخواست کی جس کے جواب میںلارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے26ا کتوبر1947کو گورنر جنرل کی حیثیت سے ہندوستان حکومت کی طرف سے کہا کہ کشمیر میں عارضی طور پر فوج بھیجی جا رہی ہے ،کشمیر کے مسئلے کا فیصلہ کشمیری عوام کے ذریعے رائے شماری سے کیا جائے گا اور ہندوستانی فوج کے ذمے کشمیر میں چار کام،ریاست کا دفاع،شہریوں کی زندگی ،جائیداد اور آنر کا تحفظ ہو گا۔27اکتوبر1947کو کشمیر بھارتی حکومت اور جموں وکشمیر کی حکومت کے درمیان ایک دو طرفہ معاملہ تھا تاہم اس کے چار دن بعد ہی31اکتوبر1947کو یہ معاملہ اس وقت سہہ فریقی بن گیا کہ جب بھارتی وزیراعظم نے وزیر اعظم پاکستان کو ایک ٹیلی گرام میں الحاق اور مہاراجہ کی معاونت کے لئے ہندوستانی فوج بھیجے جانے کے متعلق لکھتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ہندووستان کو کشمیر کی سنگین صورتحال کی وجہ سے فوج بھیجنا پڑی اور کشمیر میں امن بحال ہوتے ہیں رائے شماری کے ذریعے کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔۔اس ٹیلی گرام کے پیرا نمبر7میں واضح کیا گیا کہ ” یقین دہانی کراتے ہیں کہ کشمیر میں امن قائم ہوتے ہی ہم اپنی فوج کشمیر سے واپس بلا لیں گے اور ریاست کے مستقبل کا فیصلہ ریاست کے عوام پر چھوڑ دیں گے،یہ بھارتی حکومت کا عہد ہی نہیں بلکہ بھارت کا کشمیر کے عوام اور عالمی برادری کے ساتھ بھی کیا گیا ایک وعدہ ہے۔
اکتوبر22 1947 جموں کشمیر میں پاکستانی قبائلی حملہ آور داخل ہوئے۔کشمیر اس وقت ایک عالمی مسئلہ بن گیا کہ جب بھارت نے یکم جنوری1948کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پٹیشن دائر کی اوراس طرح ہندوستان نے 15جنوری 1948کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کے حوالے سے 27اکتوبر1947کے الحاق سے دستبرداری اختیار کر لی۔ہندوستان 15جنوری1948کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے227ویں اجلاس میں الحاق سے دستبردار ہو گیا اور واضح کیا کہ” ہم (ہندوستان) کشمیر میں امن کا قیام چاہتے ہیں تا کہ کشمیر کے عوام پر امن ماحول میں آزادانہ طور پر ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔ہمارا(ہندوستان کا) اس کے علاوہ کوئی مفاد نہیں ہے اور ہم اس بات پہ رضامند ہیں کہ کشمیر میں امن و امان کے قیام کے بعد عالمی نگرانی میںرائے شماری کرائی جائے تا کہ ہم(بھارت) اپنی قانونی،آئینی اور خلاقی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہو سکیں”۔
13 اگست 1947 کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرارداد کشمیر کی قوم کے حق میں ہے، کیونکہ یہ قرارداد جموں کشمیر کے لوگوں کے خواہشات کے مطابق خود مختاری کا حق ہے۔ جنوری5 1949 اقوام متحدہ کی قرارداد کشمیر کی قوم اور پاکستان کے خلاف ہے۔ ہندوستان اپنی فوج بھیجنے کا جواز کشمیر میں سنگین ہنگامی صورتحال بیان کرتا ہے جبکہ آج کشمیر میں ایسی صورتحال موجود نہیں ہے کہ جس کے دفاع کا ہندوستان نے27اکتوبر 1947کو اعلان کیا تھا۔جموں و کشمیرکی آزاد و خود مختار ریاست کے طور پر تسلیم کئے جانے کا مقصد یہی تھا کہ اقوام متحدہ کی نگرانی اور اشتراک سے رائے شماری کرانے کے انتظامات کئے جائیں۔جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک عبوری حکومت قائم کرنے کی ضرورت ہے جس میں مقبوضہ کشمیر کے ساتھ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی بھی مکمل نمائندگی موجود ہو۔اقوام متحدہ نے سرینگر کی اس حکومت کے کردار کو تسلیم کیا ہے جو رائے شماری کے مقصد سے قائم ہو اور جس میں آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان کی بھی موثر نمائندگی ہو ہم کشمیری اپنا مقدمہ نہ سمجھنے سے نقصان اٹھا رہے ہیں،کشمیریوں کو اپنا مقدمہ صحیح طور پر پیش کرنا ہی نہیں آ رہا۔ ریاست جموں کشمیر میں لاکھوں کی تعداد میں ہندوستان اور پاکستان کی افواج اسلحہ بارود کے ساتھ موجود ہیں کشمیر کے عوام اسلحہ بارود کے سائے میں اپنی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں قابض افواج کشمیریوں کی نسل کشی گزشتہ ستر سالوں سے کرنے میں مصروف ہے۔جموں کشمیر میں کالے قوانین کا راج ہے ۰کشمیریوں کی معاشی حالت تباہ کر دی گئی ہے۔جموں کشمیر کے وسائل کو ہندوستان اور پاکستان گزشتہ ستر سالوں سے بے دردی سے لوٹ رہے ہیں ۔جموں کشمیر کے وسائل کو لوٹنے کے تسلسل کو جاری رکھنے کے لیے آئے روز سیز فائر لائن پر دونوں ممالک کی افواج نے کشمیر کو میدان جنگ بنا رکھا ہے ۔لبریشن فرنٹ عالمی اداروں اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ ریاست جموں کشمیر کی وحدت کشمیریوں کی علیحدہ شناخت اور ان کی آزادی خود مختاری کے لیے اپنا موثر کردار ادا کریں ۰ہندوستان اور پاکستان کو مجبور کیا کیا جائے کہ دونوں ممالک ریاست جموں کشمیر سے اپنی افواج کے انخلاءاور رائے شماری کا ٹائم فریم دیں جس کا ان دو ممالک نے دنیا کے سامنے وعدہ کیا ہوا ہے

Please follow and like us: