کراچی(ڈیلی پیغام ) سندھ میں پہلی بار ہاتھوں میں کپکپاہٹ کے مرض (رعشہ) کو کنٹرول کرنے کے لیے دو مریضوں کے دماغ میں پیس میکر کامیابی کے ساتھ نصب کردیے گئے۔کراچی کے نیورو اسپائنل کینسر اینڈ کئیر انسٹی ٹیوٹ میں ہاتھوں میں کپکپاہٹ کے مرض (رعشہ) کے مریضوں محسن اور امین کے دماغ میں پہلی بار کامیابی کے ساتھ پیس میکر لگائے گئے جو کہ نیورو سرجن پروفیسر ستار ہاشم نے لگائے ہیں، چین سے آئے ہوئے ماہرین طب بھی اس پیچیدہ اور اہم سرجری میں شامل رہے سرجری کے بعد دونوں مریضوں کی حالت بہتر بتائی جارہی ہے، ایک آپریشن کا دورانیہ 4 سے 5 گھنٹے تھا۔کراچی کے رہائشی 33 سالہ محسن نے بتایا کہ وہ آٹو پارٹس کا کام کرتا ہے اور اسے سیدھے ہاتھ میں لرزش اور ہلکی سی کپکپاہٹ کا سامنا تھا محسن نے بتایا کہ وہ لاپروائی کی وجہ سے علاج سے دور رہا اور کچھ عرصے بعد الٹے ہاتھ میں کپکپاہٹ تیز ہوگئی جس کی وجہ سے ڈرائیونگ اور کھانا کھانے سمیت دیگر کاموں میں دشواری کا سامنا تھا۔
محسن کا کہنا تھا کہ میں نے پروفیسر ستار ہاشم سے چیک اپ کرایا تو انھوں نے مجھے دماغ میں پیس میکر لگانے کی اس نئی تکنیک کے بارے میں بتایا جس پر میں نے اپنے دماغ میں پیس میکر نصب کرانے پر آمادگی ظاہر کی، مجھے یقین ہے کہ سرجری کے بعد میں اپنی زندگی معمول کے مطابق گزار سکوں گا۔
دوسرے مریض امین لاکھو کا تعلق ٹھٹھہ سے ہے اور اس کی عمر 60 سال سے زائد ہے، امین نے بھی سرجری سے قبل کہا کہ اسے ہاتھوں اور پیروں میں کپکپاہٹ (رعشہ) کے باعث چلنے پھرنے میں دشواری کا سامنا تھا اور وہ وہیل چیئر استعمال کرنے پر مجبور تھا، ڈاکٹر ستار ہاشم سے رابطہ ہوا تو انھوں نے نئی تکنیک سے آگاہی دی جس پر میں نے اپنے دماغ میں پیس میکر لگانے پرآمادگی ظاہر کی، امین نے امید ظاہر کی کہ سرجری کے بعد وہ اپنی زندگی معمول کے مطابق گزار سکے گا۔
اس موقع پر پروفیسر ستار ہاشم نے بتایا کہ ڈپریشن، شیزو فرینیا، مرگی سمیت دیگر ذہنی اور دماغی امراض کا علاج مخصوص ڈیوائس لگا کر کیا جا سکتا ہے، اتوار کو اس نئی تکنیک کا آغاز کردیا گیا ہے، ہماری حکومت اور مخیر حضرات سے اپیل ہے کہ وہ آگے آئیں اور ان امراض میں مبتلا مستحق مریضوں کے علاج میں ہمارا ساتھ دیں، انھوں نے مزید بتایا کہ ہاشم ٹرسٹ کے تحت مستحق مریضوں کا مفت علاج بھی کیا جاتا ہے۔پروفیسرستار ہاشم نے بتایا کہ دماغ میں پیس میکر کی ریموٹ کنٹرول کے ذریعے مانیٹرنگ کی جاتی ہے پیس میکر دماغ میں اور اس کی بیٹری کو کالر بون میں نصب کیا جاتا ہے جس کا کنٹرول مریض اور اس کے معالج کے پاس ہوتا ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ رعشہ کے مرض میں طویل عرصے تک دوائیں کھانے سے مضر اثرات مرتب ہوجاتے ہیں۔
ماہرین طب کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ کے بعض سیل کی وجہ سے اور رعشے کی دواو¿ں کے مسلسل استعمال سے بھی ہاتھوں میں کپکپاہٹ کا مرض جنم لیتا ہے دماغ کے اندر لگائے جانے والے پیس میکر محفوظ ہیں دنیا بھر میں دماغ کے اندر پیس میکر لگانے کی کامیابی کی شرح 85 فیصد ہے امریکا میں سالانہ 1500 رعشہ کے مریضوں کو ڈیوائس لگائی جاتی ہیں۔خیال رہے کہ چین میں ایک لاکھ رعشہ کے مریضوں کے دماغ میں ڈیوائس لگا کر اس مرض پر قابو پایا گیا ہے اس طریقہ علاج میں پیس میکر کی بیٹری 7 سال بعد تبدیل ہوتی ہے۔

Please follow and like us: