روم(ڈیلی پیغام) دل کے شدید دورے (ہارٹ اٹیک) کے بعد دل کے پٹھوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور یوں دل کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اب ماہرین نے نینو ذرات پر مشتمل ایک اسپرے بنایا ہے جو پھیپھڑے سے ہوتا ہوا دل تک جاتا ہے جہاں نینو ذرات اپنی دوا خارج کرکے دل کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرتے ہیں۔اسپرے میں گہرا سانس لینے سے دل کی مرمت ہوجاتی ہے اور جب اسے جانوروں پرآزمایا گیا تو اس کے بہترین نتائج برآمد ہوئے۔نینو ذرات پر مشتمل اسپرے میں شامل نینو پارٹیکلز درحقیقت اتنے چھوٹے ہیں کہ وہ پھیپھڑوں کے اندر خانوں میں جذب ہوجاتے ہیں اور خون میں شامل ہوتے ہیں۔ اس کے بعد خون بدن میں گردش کرتا ہے اور یوں ذرات سیدھا دل میں جاکر اندر دوا خارج کرتے ہیں۔ اس دوا سے ہارٹ اٹیک کے بعد دل بہتر ہوتا ہے۔اس دوا کو ایسے چوہوں پر آزمایا گیا جن کے دل میں جان بوجھ کر وہ گڑبڑ پیدا کی گئی تھی جو ہارٹ اٹیک کے بعد رونما ہوتی ہے۔ اس میں دل کے ہر دھڑکن کے نتیجے میں دل کے بائیں خانے سے باہر جانے والے خون کی مقدار نوٹ کرکے دل کی صحت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ تجربے میں صحت مند چوہے کے مقابلے میں یہ شرح 17 فیصد تک کم تھی۔جب 10 متاثرہ چوہوں کو نینو پارٹیکل اسپرے دیا گیا تو ان میں خون کی مقدار 15 فیصد تک بہتر ہوئی۔ اٹلی میں یونیورسٹی آف پرما کے ماہرین نے پروفیسر مائیکل میراگلی کی نگرانی میں یہ کام کیا ہے۔ ان کے مطابق ’چوہے مکمل طور پر بحال ‘ ہوئے جو ایک بڑی کامیابی ہے۔پروفیسر مائیکل کی ٹیم نے نینوذرات کیلشیئم فاسفیٹ سے بنائے تھے اور کیلشیئم فاسفیٹ ہماری ہڈیوں میں قدرتی طور پر موجود ہوتا ہے۔ نینو ذرات میں اسے بھرنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ وہ دل کی سطح پر موجود خلیات (سیل) میں دورے کے بعد تباہ ہونے والے کیلشیئم چینل کی مرمت کرسکیں۔ یہ چینل ایک طرح سے دل کو بجلی دینے کا کام کرتے ہیں تاکہ وہ نارمل انداز میں کام کرسکے۔

Please follow and like us: