نئی دلی(نیوز ڈیسک) سوشل میڈیا کے ذریعے فراڈ کے واقعات ہر روز سامنے آتے ہیں لیکن بھارت میں پیش آنے والا ایک واقعہ کئی طرح سے عبرت کا سامان ہے۔ یہ ایک ایسے پولیس والے کا قصہ ہے جسے ویب سائٹ فیس بک پر ایک نوجوان نے لڑکی کا روپ دھار کر پاگل بنایا، لیکن حقیقت کا علم ہونے پر اس پولیس والے نے درندے کا روپ دھار لیا اور دھوکہ دینے والے نوجوان کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق 32 سالہ پولیس کانسٹیبل کانن کمار کی دوستی چند ماہ قبل فیس بک کے ذریعے 22 سالہ ایانار سے ہوئی جس نے خود کو لڑکی ظاہر کر رکھا تھا۔ دونوں کے درمیاں سوشل میڈیا میسجز کا تبادلہ ہوتا رہا اور پھر کانن اور ایانار کے درمیان فون پر بھی بات ہوتی رہی۔ فون پر بھی اس شاطر نوجوان نے لڑکی کی آواز نکال کر کانسٹیبل کو ایسا الو بنایا کہ اسے حقیقت کا علم نا ہو سکا۔ چند ہفتوں میں ہی وہ اپنی نئی دوست پر ایسا لٹو ہوا کہ نوکری سے 10 دن کی چھٹی لے لی تا کہ اس سے کھل کر ملاقاتیں کرے اور دونوں کچھ د ن اکٹھے گزار لیں۔
ایانار کو جب کمار کے عزائم کا علم ہوا تو وہ گھبرا گیا اور ملنے سے انکار کر دیا۔ اس کے مسلسل انکار پر کانن کو شک گزرا اور کچھ چھان بین کے بعد اسے پتا چلا کہ یہ ایک مرد ہے جو لڑکی بن کر اسے الو بنا رہا تھا۔ اس انکشاف پر پہلے تو وہ ایسا دلبرداشتہ ہوا کہ زہر پی کر خود کشی کی کوشش کی لیکن اس کی جان بچا لی گئی۔ جب اس کے کچھ ساتھی ملنے آئے تو اس نے اپنے ساتھ پیش آنے والا ماجرا بیان کیا اور ان سب نے مل کر ایانار کو ڈھونڈنے اور قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ وہ چند دن میں ہی اسے ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب ہو گئے اور اغواء کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔ کانن اور ساتھیوں نے ملکر اس پر تشدد کیا اور انتہائی سفاکانہ طریقے سے اس کی جان لے لی۔ چنائی پولیس کا کہنا ہے کہ کانن مفرور ہے، تاہم اس کے تین ساتھیوں وجے کمار، تامی لاراسن اور تینزنگ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

Please follow and like us: