برسلز (پ ر) جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یورپ کے صدر تنویر احمد چودھری ، سینئر نائب صدر شبیر جرال، جنرل سیکرٹری مسعود میر ،سینیر راہنما ممبر ڈپلومیٹک کمیٹی سردار نسیم اقبال ایڈووکیٹ،،مممبر سپریم کونسل زاہد حسین، مزمل حق عادل، عدنان حنیف،اشفاق قمر ،الطاف خان،نسیم خان،مشتاق دیوان،ڈاکٹر اشتیاق احمد خان ،ظہیر زاہد ،مظہر اقبال نعیمی ،  , نے کہا ہےکہ کشمیر کونسل کے خاتمے سے جہاں پاکستان کی حکومت اور آزاد کشمیر حکومت کے درمیاں ورکنگ ریلیشن شپ میں اضافہ اور آزاد کشمیر کے عوام کا سیاسی و معاشی فائدہ ہوگا وہیں پر یہ عمل مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف پیش قدمی میں بھی مثبت رول پلے کریگا انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ کشمیر کونسل، وزارت امور کشمیر، ایکٹ 74 اور اس طرح کے تمام استحصالی اور غیر جمہوری اداروں اور اقدامات کی سرعام اور دلیلوں کے ساتھ مخالفت کی  جموں کشمیر لبریشن فرنٹ چالیس سے یہ کہہ رہی ہے کہ ایکٹ چوہتر کا خاتمہ کرو اور معاہدہ کراچی ختم کرو کشمیر کونسل خود بخود ختم ہوجائے گی اور اس طرح ہم بااختیار ہو کر مسلۂ کشمیر حل کرنے کیلئے اپنے وسائل بروئے کار لا سکیں,آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر مشتمل آئین ساز اسمبلی اور نمائندہ جمہوری حکومت کے قیام کی طرف بڑھنے کے اقدامات کا آغاز کیا جائے، , ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آزاد کشمیر کونسل اور گلگت بلتستان کونسل کو بیک وقت ختم کیا جائے ، ایکٹ 74 اور گلگت بلتستان گورننس آرڈر 2009 کو ختم کر کے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر مشتمل آئین ساز اسمبلی اور نمائندہ جمہوری حکومت کے قیام کی طرف بڑھنے کے اقدامات کا آغاز کیا جائے، وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کا خاتمہ کیا جائے، آزاد کشمیر و گلگت بلتستان میں تمام غیر جمہوری اور نو آبادیاتی طرز کے اقدامات بشمول باشندہ ریاست قانون کی خلاف ورزی، انتخابات میں حصہ لینے کیلئے اسلام آباد سے وفاداری کا حلف، نوکریوں کے حصول کیلئے وفاداری کے حلف اور ہر طرح کی سیاسی مداخلت ختم کیجائے تاکہ پاکستان اور ریاست کے پاکستان کے زیر انتظام حصوں کے درمیان تعلقات اور اعتماد کا ایک نیا دور شروع ہو انہوں نے کہا کہ پاکستان کے متعدد سابقہ سفارت کار، ، دانشور، صحافی اور سیاسی زعما متعدد مرتبہ کھلے عام ان تمام مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے یہ کہہ چکے ہیں کہ اسلام آباد کو آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کو مکمل اندرونی خودمختاری دیکر وہاں تعمیر و ترقی کا انقلاب لانا چاہیے تاکہ عالمی برادری کی نظروں میں وہ بھارت سے بہتر پوزیشن پر آ جائے جس سے مسئلہ کشمیر کو حل کروانے کیلئے بھارت پر دباو کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ یورپی پارلیمان نے کشمیر پر 24 مئی 2007 کو ایک قرارداد منظورکی : موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی طرف سے ان مطالبات کو ماننے سے کشمیری عوام اور پاکستان کے عوام کے درمیان رشتوں اور تعلقات میں خلوص اور پیار کا اضافہ ہو گا اور مسئلہ کشمیر کے حل کیطرف مثبت پیش رفت ہوگی۔ , ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وزارت امور کشمیر آزاد کشمیر کونسل اور گلگت بلتستان کونسل کو ختم کیاجائے آزاد کشمر,گلگت بلتستان حکومت کے معاملات کو خارجہ امور کے ساتھ  منسلک کیا جائے

Please follow and like us: