راولپنڈی (ڈیلی پیغام )پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پہلی باراس ایشوپر بات ہورہی ہے ، میری ذاتی طورپر منظور پشتین اور اس کے ساتھیوں سے ملاقات ہوچکی ہے ، کچھ صحافی بھی تھے ، ان کے مطالبات منظور کیے لیکن جب یہ لوگ واپس پہنچے تو پاک فوج کیخلاف نعرہ بازی شروع کردی، گزشتہ روز ہونیوالے ہنگامے میں بھی زخمیوں کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹروں میں منتقل کیاگیا، آرمی چیف نے سختی سے ہدایت کی ہے کہ کہیں پر بھی ان کی ریلی یا احتجاج کیخلاف طاقت کا استعمال نہیں کرنا ، ہم ریاست ہیں اور ریاست نے ہی ان کو سنبھالنا ہے لیکن ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ منظور احمد محسود سے کیسے منظور پشتین ہوگیا، پانچ ہزاراکاﺅنٹس افغانستان میں کیسے بن گئے، ہم پر بھی الزامات لگے لیکن وہ وقت کیساتھ ساتھ جھوٹے ہورہے ہیں۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آصف غفور نے کہاکہ ’خیبر پختونخواہ میں فاٹا کے انضمام سے بہت بہتری ہوئی ،فاٹا کے نوجوان آرمی چیف سے ملے ،نیشنل سیکیورٹی پر بحث ہوئی ،سب نے مل کر فیصلہ کیا یہ تاریخی فیصلہ ہے،کچھ بڑے تھے جوانضام نہیں چاہتے تھے ،جب فاٹا یوتھ آرمی چیف سے ملنے آئی تو انہیں یہ مشورہ دیا جوحق میں نہیں تھے ان کو ساتھ لے کر چلنا ہے ،وکٹری سکور نہیں کرنا ،اب ترقی کی طرف لے کرجانا ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ کل ٹیلی فون آئے کہ وانا میں کوئی حادثہ ہوا اورپشتون تحفظ موومنٹ( پی ٹی این) کی بات چل رہی تھی ،پہلی بار بتارہاہوں کہ منظور پشتین سے میری اپنی ملاقات ہوئی۔ایک صحافی نے کہا کہ کچھ لوگ آئے ہیں نقیب محسود پر دھرنادیا ہوا ہے میں نے صحافیوں کو بلایا انہوں نے بتا یا نقیب اللہ کے تحقیقات کی تحقیقات ہونی چاہیں، آرمی چیف کوبتا یا، پھر انہوں نے کہا کہ چیک پوسٹ اور وطن کارڈ کے کچھ ایشو ہیں، معاملہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی توصحافی اپنے علاقوں میں واپس چلے گئے، پھر پتہ چلا کہ مزید کچھ لوگ ابھی بیٹھے ہیں،میں نے کہاکہ ان لوگوں کو بھی بلالیں، منظور پشتین لوگوں سے بات کی اورنقیب اللہ محسود، لاپتہ افراد اور چیک پوسٹوں کے معاملات سامنے آئے، سب قابل عمل معاملات تھے ، ،محسن داوڑاور منظور پشتین کو علیحدہ کرکے اپنے آفس میں لے گیا اور ان سے بات ہوئی، بتایاکہ یہ ایشو حل ہوجائیں گے ،ان کی ملاقات کے بعد محسن داوڑ کا شکریہ کا پیغام بھی آیا۔

ترجمان کاکہناتھاکہ اس کے بعد منظور احمد نام کیسے ہوا ،کیسے پانچ ہزار اکاونٹ افغانستان میں بن گئے ،کس طرح دس دس انفرادی ملک سے باہر احتجاج کرنا شروع ہوگئے ،ہمارا میڈ یا اسے نظرانداز کر رہا ہے لیکن غیرملکی میڈ یا لائیو فیس بک ٹوئٹر پر ٹیلی کاسٹ کر رہا ہے۔جو لوگ پاکستان کے دشمن ہیں اگر وہ آپ کے ساتھ مل جائیں اور تعریف کرنا شروع کردیں تو کیا مطلب ہوگا؟

انہوں نے بتایاکہ آرمی چیف کی سخت ہدایت تھی کسی بھی جگہ پر ان کے ہجوم پرطاقت کا استعمال نہیں کرنا، جب انہوں نے لاہور میں جلسہ کرنا تھا کہ تو پکڑدھکڑ شرو ع کردی گئی، آرمی چیف نے کہا کہ انہیں نہ پکڑیں ،ہم نے انہیں سنبھالنا ،سننا ہے ،ان کے خلاف ایکشن بھی نہیں کیا گیا ،اب ہمارے پاس بہت سارے ثبوت ہیں ،وانا میں ان کا قبیلہ ہے محسود کا ہے، ایک امن کمیٹی نے سالہا سال دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی ،علی وزیر صاحب پچھلے چند دنوں سے وہاں جا کر آرمی کے خلاف نعرے لگا رہے تھے ،لوگوں نے منع کیا، امن کمیٹی نے جرگے کی آفر کی ،اور یہ آئے اور بات ہوئی تو ان کے پاس ہتھیار بھی تھے ، فائرنگ شروع ہو گئی ۔

وزیر صاحب سے پوچھا اور ایف سی اور آرمی نے آ کر انہیں لڑنے سے منع کیا ،آرمی کے ہیلی کاپٹر استعمال کر کے انہیں ہسپتالوں میں پہنچا یا گیا اور سوشل میڈ یا پر پراپیگنڈا چل رہاہے کہ آرمی نے بچی کو مارا، کسی بچی کی موت نہیں ہوئی۔آپ کے خلاف ایکشن نہیں چاہتے ،جو امن ہم نے حاصل کیا کسی نے نہیں کیا ،اب متحد ہو کر رہنے کاوقت ہے۔اگر آپ سوشل میڈیا پر جھوٹے نعرے لگاتے ہیں۔عوام کی محبت فوج کے لیے زیادہ ہوئی ،کم نہیں ہوئی ،اس قسم کے نعروں سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، ہم کسی پارٹی اور پی ٹی این کا جواب نہیں دے سکتے۔ہم پر بہت الزام لگے لیکن وہ تمام الزامات وقت کے ساتھ ساتھ جھوٹے ہو رہے ہیں ،کوئی فورس دہشت گردی کے خلاف کامیاب نہیں ہوئی پاک فوج ہوئی،چیک پوسٹ لگانے کا ہمیں فائدہوتاہے ،ایک افسر کھڑا خیبر میں ہے کراچی سے بلانگ کرتا ہے ،وہ چیک پوسٹ پر گولی کھاتا ہے ،بہت آسان ہے سب کچھ چھوڑ دیں لیکن فوجی نے اپنی زندگی ملک کے نام لکھی ہوتی ہے،اگر فورس کو گالیاں نکالنے سے آپ کا قد اونچا ہوتا ہے تو ضرور کریں ،اگر پاکستان کو نقصان ہوتا ہے تووہ نہ کریں۔

Please follow and like us: