تحریر: فرمان اللہ نیازی

چپ مگر کب تک۔

ویسے تو اج کل کرپشن کے خلاف نیب اور سپریم کورٹ کچھ زیادہ متحرک نظر ارہے ہیں۔ لیکن نیب اور سپریم کورٹ کو چاہیئے کہ خیبرپختونخواہ میں گزشتہ پانچ سال حکومت اور ان کے ایم پی اے اور ایم این اے پر نظر ڈالیں نہ کہ ایک پارٹی یا ایک خاندان کو نشانہ بنائیں ہم اگر گزشتہ پانچ سالہ حکومت جو خیبر پخؒتونخواہ میں گزرا ہے اگر اس پرتھوڑا سا ایکشن لیں تو مجھے یقین ہے کہ خیبرپختونخواہ میں بہت سےکرپٹ صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے ممبران نیب کے شکنجے میں آ سکتے ہیں۔لیکن پتہ نہیں کہ اس معاملے میں حکومت اور حکومتی ادارے کیوں خاموش ہیں۔ بس ایک خاندان اور ایک پارٹی کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہیں بہت اچھا ہوتا اگر یہ دونوں ادارے اپنے ہاتھ اور لمبے کرتے توپھر کوئ بھی ان کے خلاف انگلی نہیں اٹھا سکےگا۔ مانتے ہیں کہ ان لوگوں نے کرپشن کی ہے لیکن یہ بات ناقابل قبول ہے کہ کسی خاص فرد یا ایک پارٹی کوخلاف ایکشن لینانہایت زیادتی ہے۔ خیبر پختونخواہ میں صوبائ احتساب کمیشن کا ادارہ ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یہ کیوں کسی کے پاس اس بات کا جواب ہے۔ یا خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے سارے ممبرز فرشتے ہیں۔ایسا ہرگز نہیں ہے ان فرشتوں نے بھی کہیں نہ کہیں ضرور ہاتھ پھیرا ھے پی ٹی آئی حکومت اور نیب کوچاہیئے کہ اُن عناصر کے خلاف بھی کچھ اقدامات کریں جو ان کے دھڑوں میں موجود ہیں۔ اور اگراسیا نہیں کرسکتے تو خدارا کسی اور کے اوپر اتنا ظلم نہیں کریں۔ وزیراعظم عمران خان کے ویژن کا ہم قدر کرتے ہیں لیکن احتساب اور انصاف سب کے لئےہونا چاہیئے۔

دوسری بات یہاں قابل ذکر ہے کہ جو بھی نئی حکومت آتی ہے جو بھی وزیراعلی یا کوئی وزیر بنتا ہے تویہ لوگ وہی پرانے لوگ آپنے ساتھ مشیر یا سیکرٹری اور تمام پرانا سٹاف مقرر کرلیتے ہیں تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کیا یہ لوگ بہت زیادہ ذہین ہے یا بہت زیادہ پڑھے لکھےہیں  ان سب کو ایک بار پھر اُن کے عہدوں پر رکھا گیا ہے بجائے نئے چہروں اور زیادہ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار افراد کو رکھ لیتے لیکن نہیں اُن کو وہی پرانے استاد چاہیئے جو شاید ان کی کمزوری کو جانتا۔ یا ان سے ؟یہاں دال میں کچھ کالا نظر آرہا ہے۔ یہ لوگ اگر نئے تعلیم یافتہ طبقے کو آگے لے کر آئیں تو شاید یہ حکومت کےلئے بہتر ثابت ہوگا۔اور دوسرا عوام کے نظروں میں شک ہے وہ بہت حد تک دور ہو جائے گا۔ یہاں صرف وزاراتیں تبدیل ہوئے ہیں مشیر یا سیکرٹری اور آفسران نہیں۔ موجودہ حکومت کو چاہیئے کہ جو تبدیلی کے وعدے کیے ہیں اُن کو پورا کرنے میں ان سب باتوں کا ضرور خیال رکھیں ورنہ دوسری پارٹیوں کی طرح پاکستان تحریک انصاف سے بھی لوگوں کااعتبار اُٹھ جائےگا جو پارٹی کے لیئ بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اب آتے ہیں ایک ایسے موضوع پر جو شاید پورا پاکستان جانتا ہے کہ ہمارا چیف جسٹس جوکام کررہے ہیں۔ حالانکہ یہ ان کاذمہ داری نہیں کہ وہ سب کچھ چھوڑ کر ڈیم کے پیچھے پڑجائیں اس بات سے ہم ہر گز آنکھیں نہیں چھراسکتے ہیں کہ ایک بہت اچھا اقدام ہیں لیکن اس کام کے لئے حکومت ہیں ادارے موجود ہیں تو پھر چیف جسٹس کو کیا پڑی ہے کہ وہ ڈیمز کےلئے جگہ جگہ چندہ اکھٹا کررہےہیں۔ ڈیمزبنانے اور اُن کےلئے اقدامات کرنے کے لئے حکومت موجود ہے۔ اور وزیراعظم عمران خان پر لوگوں کا بہت زیادہ اعتماد ہےجیسا انہوں نے شوکت خانم ہسپتال بنائے نمل یونیورسٹی بنائی۔ تو چیف جسٹس صاحب کو چاہیے کہ ڈیمز بنانےکا کام چھوڑ دیں اور جو کیسز التوا کے شکار ہیں ان کے بارے میں سنجیدگی ظاہر کریں کیونکہ یہ تقریبا ۱ لاکھ سے زیادہ کیسز ہیں جس کا حل کرنا بہت ضروری ہے۔ اس بات سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ کچھ کیسوں کے فیصلے تب آتے ہیں جب وہ بندہ اس دنیا ئے فانی سے چلا گیا ہو مانتے ہیں کہ ڈیمز کو بہت زیادہ ضرورت ہے پاکستان کو پاکستانی عوام کولیکن اس سے زیادہ ضروری وہ کیس ہیں جن میں کچھ بے گناہ بھی شاید قید کی سزا کاٹتا ہو

Please follow and like us: