برمنگھم(پ ر) تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب نے کہا ہے 5 اگست کے بعد پوری دنیا میں بھارت کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف بھر پور احتجاج کیے  وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی 27 ستمبر کی اقوام متحدہ میں تقریر کشمیریوں کی جس طرح ترجمانی کی گی اس سے دنیا کی توجہ مبذول کرنے میں مد بھی ملی اس کے بعد حکومت پاکستان کی مسلسل خاموشی چار ماہ سے کرفیو سفارتی محاذ اور پاکستان کے اندر کشمیر کہیں کوئی آواز بلند نہیں ہوئی اور اس خاموشی کو توڑنے کے لیے جماعت اسلامی پاکستان 22 دسمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کردیا کہ اہل پاکستان حکمرانوں کی موجودہ پالیسی کے خلاف احتجاج کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مسلہ کشمیر حوالے سے کوئی اقدامات نہ کرنا دنیا کے اندر پاکستان کے بارے میں یہ تاثر جائے گا جب حکومت پاکستا ن خاموش ہے پاکستان اگر کشمیریوں کے ساتھ نہیں ہے بھارت کے خلاف کوئی ٹھوس اقدامات سفارتی اور تجارتی تعلاقات ختم کرنے کے لیے تیار نہیں تو پھر باقی دنیا بھارت پر کیوں دبائو ڈالے کہ وہ مسلہ کشمیر کو حل کرئے اور اس طرح کوئی ملک بھارت کے ساتھ اپنے تعلاقات کو کیوں بگاڑے گا جبکہ پاکستان جس کا مسلہ ہے وہ دستبردار ہوگیا ہے اور ہر جگہ خاموشی ہے اس طرح کے حالات میں سفارتی محاذ پر کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی کے لیے بے شمار مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ محمد غالب نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کشمیریوں کا سفیر بننے کا اعلان کیا تھا مگر ابھی تک ان کی سفارت کاری کہیں نظر نہیں آئی دنیا بھی خاموش ہو گی ہے کشمیریوں کے ساتھ بھارت کی درندہ صفت فوج کیا کر رہی ہے اس کی کوئی خبر نہیں ہے بھارت نے تمام راستے بند کر رکھے ہیں اور بھارت کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔

Please follow and like us:
error