کوالکوم کمپنی نے اگلے اسمارٹ فون کے لیے اپنی نئی چپ متعارف کرادی ہے۔ فوٹو: نیو اٹلس

بیجنگ: تصویر میں دکھائی دینے والی مائیکروچپ کوالکوم کمپنی کی نئی اختراع ہے جو دنیا بھر کے اسمارٹ فون کے لیے پروسیسر بنانے والی ایک بڑی کمپنی ہے، توقع ہے کہ اگلے سال اکثر اسمارٹ فون میں یہی چپ استعمال ہوگی جسے ’اسنیپ ڈریگن 865‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ اپنی سابقہ چپ کے مقابلے میں 25 فیصد تیز رفتار ہے۔

اس چپ کی بدولت فائیو جی اسمارٹ فون کا خواب پورا ہوگا، اسمارٹ فون کے کیمرے مزید بہتر ہوں گے اور ایچ ڈی آر سمیت ڈولبی وژن جیسی نئی ڈسپلے ٹیکنالوجی پروان چڑھیں گی۔ گزشتہ کئی برس سے کوالکوم کی اسنیپ ڈریگن چپس اسمارٹ فون کی دنیا پر چھائی ہوئی ہیں۔ اس سال ہم نے گوگل پکسل فور ایکس ایل سے لے کر سام سنگ گیلکسی نوٹ ٹین میں بھی اسنیپ ڈریگن 855 سیریس کی مائیکروچپس دیکھی ہیں۔)

اب نئی 865 چپ گزشتہ چپ کے مقابلے میں نہ صرف 25 فیصد تیز رفتار ہے بلکہ فائیو جی میں اس کی اسپیڈ 7.5 جی پی بی ایس ہے۔ اس میں اسپیکٹرا 480 امیج سینسر بھی موجود ہے جو ہر سیکنڈ میں دو گیگا پکسل فوٹو یا ویڈیو پروسیس کرتا ہے۔

اس چپ کی بدولت 720 پکسل ویڈیو کو 960 فریم فی سیکنڈ کی رفتار سے بھی دیکھنا ممکن ہوگا اور سب سے بڑھ کر صارفین ڈولبی وژن کے مزے بھی اپنے اسمارٹ فون پر لے سکیں گے تاہم یاد رہے کہ فائیو جی ٹیکنالوجی 2021ء کے اوائل میں ہی دستیاب ہوسکے گی۔

Please follow and like us:
error