یادرفتگاں۔۔۔جاوید عظیمی کے قلم سے
انسان کی زندگی میں رونما ہونے والے چند واقعات ایسے ہوتے ہیں جو واقعی ناقابل فراموش ہوتے ہیں اور ان حسیں واقعات سے انسان کاتعلق قائم رہتا ہے جب چاہے ماضی کے دریچوں میں جھانک کر اپنے بیتے ہوئے لمحات کو دل و دماغ اور آنکھوں میں فلم کی مانند چلتے ہوئے دیکھنا شروع کر دیتا ہے جس سے انسان کو قلبی راحت و تسکین ملتی ہے اور کچھ عرصہ کے لئے گلاب کے پھولوں کی طرح ترو تازہ اور نکھر جاتا ہے آج میں ایک ایسی یادگار اور حسیں ملاقات کا تذکرہ کرنے جا رہا ہوں جو میرے دل دماغ پر چھائی ہوئی ہے ۔یہ بات ہے 1981کی میرے ایک ملنے والے مگر انتہائی باصلاحیت اور معاملہ فہم انسان تھے کراچی میں ہونے والی ادبی تقریبات میں اکثر ملاقات ہو جایا کرتی بعدازاں بتدریج ان ملاقاتوں میں تیزی آگئی پھر اکثر ہماری ملاقات ہو جاتی تھی نصیر۔اے۔بلگرامی صاحب نظر شناس تھے اور میرے مزاج کو بھی سمجھ گئے تھے اکثر ٹیلی ویژن کے ڈراموں اور ان میں اداکاری کے جوہر د کھانے والے فنکاروں اور شعراء کرام سے متعلق تبادلہ خیال بھی رہتا ۔ا س سلسلے میں وہ میری باتیں بڑے ذوق شوق سے سماعت کرتے اور خوب محظوظ بھی ہوتے ایک روز ہم دونوں مقامی ہوٹل میں بیٹھے چائے پی رہے تھے تو نزیر صاحب نے مجھ سے سوال کیا جاوید صاحب کیا آپ کو لکھنے لکھانے کا بھی شوق ہے میں نے بہت ہی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے برجستگی سے کہا کبھی کبھار مقامی اخبارات کو آرٹیکل بھیج دیتا ہوں اور وہ شائع بھی کر دیتے ہیں جس سے میری حوصلہ افزائی ہو جاتی اور مزید لکھنے کے لئے ہمت بھی ہو جاتی ہے اس طرح میں اپنے لکھنے کا شوق بھی پورا کر لیتا ہوں ۔میری گفتگو غور سے سننے کے بعد انھوں نے بھی انکشاف کیا کہ انھیں بھی لکھنے اور مطالعے کا بے حد شوق ہے اس گفتگو کے بعد ہم دونوں میں ذہنی ہم آہنگی ہو گئی۔جب بھی ہماری ملاقات ہو تو ہم کسی نہ کسی ادیب ،دانشور صحافی یا فنکار پر تبادلہ خیال کرتے اور گرما گرم چائے سموسوں سے بھی لطف اندوز ہوتے ۔ایک ملاقات نصیر۔اےصاحب اپنا فوٹو البم لے کر آئے اور مجھے معروف فنکاروں کیساتھ بنوائی ہوئی تصاویر بھی دکھائیں ۔ میں انکی تصاویر کو دیکھ کر بہت خوش ہوا بلگرامی صاحب تصویروں میں موجود فنکاروں گلوکاروں کے دلچسپ واقعات بھی بیان کرتے رہے اسی دوران کچھ اور احباب ہوٹل میں داخل ہوئے اور شامل گفتگو ہوگئے۔۔۔جاری ہے

Please follow and like us: