مظاہرین نے ریلوے اسٹیشن پر بھی دھاوا بولا اور جلاو گھیراو کیا – فوٹو؛ بھارتی میڈیا

گوہاٹی: مودی سرکار کے مسلم مخالف بل پر بھارتی ریاست آسام میں مظاہرین نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا جب کہ اس دوران  پولیس سے جھڑپ میں ایک شخص ہلاک اور درجنوں مظاہرین زخمی ہوگئے۔

مودی حکومت کی جانب سے شہریت سے متعلق متنازع مسلم مخالف بل لوک سبھا (ایوان زیریں) سے منظور ہونے کے بعد آخرکار راجیہ سبھا (ایوان بالا) سے بھی منظور کرلیا گیا جس کے خلاف بھارتی ریاست آسام میں مظاہروں میں تیزی آگئی ہے۔ مظاہرین سے نمٹنے کے لیے مودی سرکار نے ریاست میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے معاملات کو کنٹرول کرنے کے لیے فوج طلب کررکھی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مودی سرکار کے متنازع بل کے خلاف ریاست آسام کے مختلف اضلاع میں کاروبارزندگی شدید متاثر ہوا اور اس دوران تعلیمی ادارے تجارتی مراکز بند رہے جب کہ ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اورانہوں نے ٹائر نذر آتش کرکے سڑکیں بلاک کیں۔ بعد ازاں مشتعل مظاہرین نے ریلوے اسٹیشن پر بھی دھاو بول دیا اور توڑ پھوڑ کی جب کہ مظاہرین نے گاڑیوں کو بھی آگ لگائی۔

مظاہرین  مودی سرکار کے خلاف شدید  نعرے بازی کرتے رہے جب کہ انہوں نے حکومت مخالف بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھارکھے تھے، متعدد مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جس سے درجنوں مظاہرین زخمی ہوئے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

ریاست آسام کے شہر گوہاٹی میں  پولیس نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ بھی کی جس کے نتیجے میں 4 مظاہرین شدید زخمی ہوگئے جس میں سے  ایک شخص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ ہوگیا۔

 بھارتی راجیہ سبھا سے بھی مسلم مخالف متنازع بل منظور، آسام میں فوج طلب

میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست آسام کے 10 اضلاع میں انٹرنیٹ سروس بند ہے اور ریلوے حکام نے بھی سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر تمام شیڈول ٹرینیں معطل کردی ہیں جب کہ وزارت اطلاعات ونشریات کی جانب سے تمام پرائیوٹ ٹی وی چینلز کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ کسی قسم کی پرتشدد، ملکی مفاد کے خلاف ویڈیوز کو دکھانے سے باز رہیں۔

دوسری جانب نارتھ ایسٹ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے سربراہ نے کہا کہ وہ اس بل کی مخالفت میں ہر سال 12 دسمبر کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے۔

واضح رہے بھارتی ریاست آسام میں مسلمان کثیر تعداد میں آباد ہیں اور ان میں بنگلادیشی مسلمان بھی شامل  ہیں جنہیں بھارتی شہریت حاصل نہیں ہے اور اس مسلم مخالف بل سے غیرملکیوں کو یہاں لاکر آباد کردیا جائے گا جس سے یہاں بسنے والے مسلمانوں پر فرق پڑے گا۔

Please follow and like us: