یادرفتگانہ
مذکورہ رسالے ثمر کے اجراء اور ٹیم کے ساتھ ساتھ مالی و سائل پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ ہمارے ہم خیال ساتھی بھی تشریف لے آئے ان کی خدمت میں خوردو نوش پیش کیا گیا اور ہم جس موضوع پر محو گفتگو تھے اس کی تمام تفصیلات ان کے سامنے بھی رکھی گئیں انھوں نے بھی انتہائی دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ۔میں نے ان تمام کی موجودگی میں مالی وسائل کی ذمہ داری لی یعنی اب میں مذکورہ ماہنامہ ثمر جریدے کا بانی اور چیف ایڈیٹر بن گیا جبکہ بلگرامی صاحب کو ایڈیٹر دیگر موجود انتظامی اور دفتری امور کی ذمہ داریاں سونپی گئیں جو انھوں نے بخوشی قبول کرکے ٹیم کی صورت میں کام کرنے کا بھرپور عزم کیا ۔میں نے ٹیم سے رسالے کی کاغذی تیاریوں پر کام کرنے کے لئے ہدایات جاری کر دئیں ان تمام مراحل سے گزرنے کے لئے اکثر ہمیں اجلاس کرنے پڑے۔بلگرامی صاحب کو نامور فنکاروں گلوکاروں اور شوبز کی اہم شخصیات سے ملاقاتیں اور ان کے انٹرویو ز وغیرہ کی ذمہ داری دی گئی تاکہ ماہانہ ثمر کی پہلی اشاعت میں کسی شہرہ آفاق فنکاریا گلو کار کا انٹرویو شائع کیا جا سکے اس سلسلے میں بلگرامی صاحب نے شب و روز جدوجہد کا سلسلہ شروع کر دیا آئے دن کسی نہ کسی معروف شخصیت کا نام میرے سامنے رکھ دیتےاور کہتے آپ چاہیں تو ان سے وقت لے لوں لیکن میں جواب دیتا تھوڑی سی اور محنت کریں انشا اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ایک روز بلگرامی مجھ سے خصوصی ملاقات کے لئے آئے اور گزارش کی کہ اب وقت کم رہ گیا ہے انٹرویو سے متعلق فیصلہ کریں میں نے جواب دیا بلگرامی صاحب میں چاہتا ہوں کہ ماہنامہ ثمر کے پہلے شمارے میں شہنشاہ غزل استاد مہدی حسن خان کا انٹرویو شامل اشاعت ہو یہ سنتے ہی انھوں نے میری جانب دیکھتے ہوئے کہا یہ ہو جائے گا بس تھوڑا سا وقت درکار ہے میں نے بڑی خوشی سے کہا آپ اپنی صلاحتیں بروئے کار لائیں گے تو سب ٹھیک ہو جائے گا بلگرامی صاحب نے وعدہ کیا کہ پوری کوشش کروں گا یہ کام جلد ازجلد ہو جائے ۔ہم دونوں کھانا تناول کرنے میں مصروف ہو گئے بعدازاں اپنے اپنے گھر روانہ ہو گئے روانہ ہونے سے بلگرامی صاحب نے کہا انشا اللہ تین دن کے بعد ملاقات کریں گے پھر اس سلسلے میں تفصیلات سے آگاہ کروں گا میں نے کہا ٹھیک ہے۔۔۔۔جاری ہے

Please follow and like us: