اسلا م آباد(سہیل انجم ملک ) معروف حریت پسند کشمیری رہنماء الطاف احمد بٹ نے کہا ہے
کہ قومی کشمیر کمیٹی کے علاوہ ، کشمیر کمیٹی وزیر اعظم ریاست جموں کشمیر راجہ فاروق حیدر کی قیادت میں بنائی جائے جسکے ممبران سرینگر، مظفرآباد، پاکستان میں موجود سابقہ کشمیری سفرا،پاکستان میں موجود سابقہ کشمیری فوجی اور دُنیاں بھر میں مقیم کشمیریوں کے نمائندے ھوں۔جس کیلئے اسلام آباد میں کشمیر ہاؤس کی طرح کشمیر کمیٹی کے لئے آفس قائم کیا جائے-
الطاف بٹ نے کہا آج سے بہتر وقت کشمیر کی آذادی کا کبھی ہو ہی نہیں سکتا،
پاکستان ادھر سے عملی اقدام کرے۔کشیمری مائیں،بزرگ اور بیٹے بھارتی افواج کو ڈنڈوں سے مار کر بھگائیں گے- بھارت نے اصل میں1989سے کشمیرمیں کرفیو اور دفعہ 144 لگا رکھا ہے-آج یہ کرفیو نہیں بلکہ مکمل لاک ڈاؤن ہے جو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت نافذ کیا گیا جس کا مقصد کشمیریوں پر ظلم تشدد کے علاوہ کشمیر کی اکانومی،قدرتی وسائل کو تباہ کرنا ہے

نوجوانوں اور بچوں کا مستقبل بھی تباہ کرنا ہے۔کشمیری تقسیم کی کسی سازش کو تسلیم نہیں کرینگے اور نہ ہی ایسے حل کو قبول کرینگے جو بھی حل کشمیریوں کی شمولیت کے بغیر پیش کیا جائیگا قابل قبول نہی ھوگا-ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد نیشنل پریس کلب میں کشمیر ڈیسک کے قیام اور افتتاح کے موقع پہ خطاب کرتے ہو ئے کیا ،اس موقع پہ وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر ،افضل بٹ،انوررضا، شیراز گردیزی،فدا کیانی سمیت سینکڑوں افراد موجود تھے ،انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ایسی کہانیاں موجود ہے جسے اگر منظر عام پر لایا جائے تو دنیا کی آنکھیں کھل جائینگی،انہی کی عالمی میڈیا میں پراجیکشن اور کشمیر پہ صحیح تصویر کشی کیلئے یہ سینٹر بنانے کا فیصلہ کیا ،آج کشمیری بچوں کا مستقبل چھینا جا رہا ہے۔133دن سے کشمیر میں سکول ،کالجز بند ہیں۔

وہاں پہ بھارتی افواج نے سکولوں اور کالجوں کو فوجی چھاؤنیوں میں تبدیل کیا ہے ، وہاں پہ کاروبار تباہ ہو کر رہ گئے ہیں ۔ میری والدہ کی عمر 95سال کی ہے اور میری اُن سے ۱۳۳ دنوں میں بڑی مشکل سے ایک دفعہ بات ہوئی ہے -اس سے بڑا ظلم اورکیا ہوگا؟اس کشمیر ڈیسک کیلئے جو خواب دیکھا تھا آج وہ شرمندہ تعبیر ہوگیا ہے کہ اب یہ ان کہی اور ان سنی کہانیاں دنیا تک پہنچا کرینگی ، کشمیر میں جب بھارتی فورسز نے برہان وانی کو شہید کیاتو اُسی رات 12بجے پریس کلب کھولا گیا اور اس امر کی ضرورت محسوس کی گئی کہ ملک میں کوئی ایسا ڈیسک ہونا چاہیے جہاں پر کشمیر کے حوالے سے بھارتی ظلم و بربریت کے بارے میں مستند انفارمیشن ہو جسے پوری دنیا نشر کر سکے،ڈیسک کا مقصد بھارت کا مکروہ چہرہ دینا کیسامنے بے نقاب کرنا تھا تاہم آج اس مقصد میں کامیاب ہوئے ہیں اور میں آج وزیراعظم آزاد کشمیر اجہ فاروق حیدر ، قائد صحافت افضل بٹ، سیکرٹری پریس کلب انور رضا اور دیگر افراد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ الطاف بٹ نے کہا کہ کشمیرمیں یہ عالم ہے کہ سرنیگر میں ایک اعلی تعلیم یافتہ فیملی جسکے سربراہ وہاں جج تھے ان کے بیٹے خواجہ شجاع عباس جہادی زندگی میں پاکستان میں مقیم ھوگئے-

ایک ہفتہ پہلے راولپنڈی میں فوت ھوگئے اور ظلم کی انتہا یہ ہے کہ اُن کے والدین بہن بھائی اُنکی تدفین اور آخری دیدار سے محروم ھوگئے آپ اندازہ کریں اُن پر کیا گزری ھوگی۔ آرپار کشمیریوں کی اپنے عزیز اقارب سے بات نہیں ہوسکتی ۔ میں خود اپنے خاندان اپنی ماں اور دیگر عزیز اقارب سے بات نہیں کرسکتا ۔ کشمیر کیلئے آج تک کوئی ”ہیومن کوریڈور ”قائم نہیں کیا جاسکا جس کے ذریعے وہ اپنے پیاروں سے بات چیت کرسکیں۔ اور ضرورت کے مطابق امداد کر سکے- پاکستان ریڈیو رابطہ کروانے کا واحد راستہ ہے تاہم پاکستان آج تک ریڈیو پر کشمیر کے حوالے سے موثر پروگرام نشر کرتے رہے مگر ایسا پروگرام شروع کیا جائے جس سے کشمیر کے دونوں اطراف میں رہنے والے اپنے پیغامات اپنے پیاروں تک پہنچاسکیں۔ اس ڈیسک کے قیام کا مقصد کشمیر پر ہونیوالے ظلم کی حقیقت مستند طریقے سے دنیا کے سامنے لانا ہے۔ اس ڈیسک سے دنیا بھر کے انٹرنیشنل میڈیا بھی انفارمیشن حاصل کر کے پروگرام چلاسکتے ہیں جس کا مقصد دنیا کو یہ باور کروانا ہے کہ وہ بھارت پر کشمیر کے حوالے سے اپنے دباو کو بڑھائے۔ ہم آخر کب تک انتظار کریں گے۔؟ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کشمیر کمیٹی بنائے اور اُس کا چیئرمین وزیراعظم آزاد کشمیر کو لگائے اور یہ کمیٹی ملک میں سفارتکاروں اور سابقہ فوجیوں کو شامل کریں جو دنیا کے سامنے کشمیر کا مسئلہ اجاگر کریں۔کشمیر کی آزادی پاکستان کے مفاد میں ہے ،یہ بات حکمرانوں کو ازبر ہونی چاہئے- 5اگست کے بعد پوری دُنیاں میں جو ماحول بنا ہے یہ دوبارہ میسر نہی ھوگا-جبکہ ہمیں پتہ ہے کہ بھارتی فوجی کتنے بہارد ہیں؟۔ کشمیری مجاھدین کو سامنے دیکھ کر بھارتی فوجیوں کے ہوش اُڈ جاتے ہیں-آج اگر پاک فوج کشمیر جانے کا اعلان کریں اور وہاں مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو پتہ چلے کہ پاکستانی ہمیں ریسکیو کرنے کیلئے آ رہے ہیں تو کشمیر ی مرد و خواتین اور بچے بوڑھے بھارتی فوجیوں کو ڈنڈوں سے مار مار کر سرنڈر کرنے پر مجبور کرینگے-اور اگر آج ہم محصورین مقبوضہ کشمیر کیلئے جنگ نہی لڑ ینگے اینٹ کا جواب پتھر سے نہی دینگے تو کل جو جنگ پاکستان پانی کیلئے لڑیگا تو وہ جنگ مہنگی پڑیگی۔ اگر پاکستان کا مستقبل محفوظ کرنا ہے تو کشمیر کو ہر صورت میں آزاد کروانا ہوگا۔اس موقع پہ مشتاق عسکری، عقیل ترین،،سردار شوکت،شیراز گردیزی،صغیر چوہدری،عقیل انجم، نثار احمد ،سردار عظیم ،شیخ شبیر ،شفیق بٹ،عمر ڈار،انجینئر ،حماد میر،قاری امجد اسلام،بشیر عثمانی، و دیگر موجود تھے

Please follow and like us: