غذا میں ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس کی زیادہ مقدار لینے والی خواتین میں بے خوابی کی شرح بھی اتنی ہی زیادہ تھی۔ فوٹو: انٹرنیٹ

نیویارک: آج یہ بات ثابت شدہ ہے کہ نیند کا براہِ راست تعلق ہماری صحت سے ہے جبکہ نیند کا تعلق ہماری غذا سے ہے۔ لیکن اب کولمبیا یونیورسٹی کے ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ اگر غذا میں ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس، بالخصوص شکر کی مقدار زیادہ ہو تو اس کا نتیجہ نیند میں کمی یعنی بے خوابی کی شکل میں ظاہر ہوسکتا ہے۔

بے خوابی کے نتیجے میں انسان کی ذہنی اور جسمانی صحت بھی متاثر ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ بتدریج کمزور اور بیمار ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بچوں اور بڑوں، سب کےلیے اوسطاً 7 سے 8 گھنٹے کی نیند تجویز کی جاتی ہے تاکہ وہ صحت مند رہیں۔

نیند کی کمی یا بے خوابی ایک ایسا مرض ہے جو، ایک اندازے کے مطابق، دنیا بھر میں 10 سے 30 فیصد افراد کو متاثر کرتا ہے۔ بعض مقامات پر بے خوابی کی شرح 60 فیصد تک نوٹ کی گئی ہے لیکن یہ مرض عمر رسیدہ یا ادھیڑ عمر خواتین اور جسمانی یا ذہنی تکلیف میں مبتلا افراد میں زیادہ دیکھا گیا ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی کا مذکورہ مطالعہ ایسی 53,069 خواتین کی صحت سے متعلق دستیاب اعداد و شمار کی مدد سے کیا گیا جن کی عمریں 50 سال سے 79 سال کے درمیان تھی۔ ان اعداد و شمار میں خواتین کی عمر، ماحول، مالی حالات، غذائی معمولات، روزمرہ مصروفیات اور غذائی معمولات کی تفصیلات موجود تھیں۔

ان تمام معمولات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد انکشاف ہوا کہ جو خواتین اپنی غذا میں ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا کا زیادہ استعمال کررہی تھیں، ان کی نیند بھی اتنی ہی زیادہ متاثر تھی۔ البتہ، ان میں سے بھی ایسی خواتین کی نیند زیادہ متاثر تھی جن کی غذا میں شکر کی زیادہ مقدار مستقل بنیادوں پر شامل تھی۔

شکر کے علاوہ سوڈا، سفید چاول اور سفید ڈبل روٹی (میدے سے بنی ہوئی) میں بھی ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس کی وافر مقدار ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مطالعے سے ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس اور خواتین میں بے خوابی کا براہِ راست تعلق سامنے آیا ہے لیکن ابھی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس کا زیادہ استعمال ہی بے خوابی کی وجہ بن رہا ہے یا پھر بے خوابی کے شکار افراد میں کاربوہائیڈریٹس زیادہ استعمال کرنے کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔

Please follow and like us: