ایوان آسام کے 20 لاکھ مسلمانوں کی شہریت کے خاتمے کی مذمت کرتا ہے، قرار داد کا متن ۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں بھارت میں مسلم مخالف قانون کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

قرار داد کے مطابق بھارت میں اقلیتوں باالخصوص مسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے، اقلیتوں کے حقوق غصب کئے جارہے ہیں، ایوان بھارتی سٹیزن ایکٹ کی مذمت کرتا ہے، یہ قانون بھارت کے انتہا پسند عزائم کی عکاسی کرتا ہے اور یہ ایکٹ خالصتاً مذہبی بنیادوں پر ہے۔

قرار داد کے متن میں کہا گیا کہ ایوان بھارت میں جاری پرامن مظاہروں پر طاقت کے استعمال کی بھی مذمت کرتا ہے، بھارتی سٹیزن شپ ایکٹ ایک امتیازی قانون ہے جس پر دیگر ممالک کو تحفظات ہیں، بھارت اقلیتوں سے حقوق غصب کرنے والے تمام اقدامات سے باز رہے لہذا بھارت سٹیزن ایکٹ سے متنازعہ شقیں واپس لے۔ بعد ازاں قومی اسمبلی میں بھارت میں مسلم مخالف قانون کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

واضح رہے بھارتی پارلیمنٹ میں کثرت رائے سے منظور ہونے والے بل میں بنگلا دیش، افغانستان اور پاکستان کے  ہندو، بدھ، جین، پارسی، عیسائی اور سکھ مذہب  سے تعلق رکھنے والے افراد کو شہریت دینے کا کہا گیا ہے  جب کہ  مسلمانوں کواس سے محروم رکھا گیا ہے جس پر مودی سرکار کے خلاف بھارت کی مختلف ریاستوں میں پرتشدد مظاہرے جاری ہیں جس میں اب تک 6 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔

Please follow and like us: