پاکستان تحریر : آصف خورشید
وزیر اعظم عمران خان نے ملائشیا میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔19سے 21 دسمبر تک ہونے والی تین روزہ کانفرنس کا عنوان ”قومی سلامتی کے حصول میں ترقی کا کردار“ رکھا گیا اس کانفرنس میں تقریباً پچاس سے زائد اسلامی ممالک سے پانچ سو کے قریب مفکرین، دانشور اور اور علماء شرکت کر رہے ہیں تاہم میزبان ملک ملائیشیا کے ساتھ ساتھ ایران ترکی اور قطر کانام نمایاں نظر آرہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس اجلاس کے لیے ملائشیا، ترکی اور پاکستان کے درمیان مشاورت اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کے دوران ہو چکی تھی۔تقریبا دو ہفتہ قبل قبل ملائشین وزیر خارجہ اپنے دورہ سعودی عرب میں سلمان بن محمد کو باضابطہ دعوت دے چکے ہیں۔بظاہر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب کے دباؤ پر اس اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا جوکسی حد تک درست بھی ہے۔ پاکستان کو اس کانفرنس میں شرکت کرنی چاہیے یا نہیں اس پر مختلف رائے موجود ہیں جس کی وجوہات بھی مختلف ہیں۔ بنیادی طور پر اس کانفرنس میں امت مسلمہ کے مسائل پر بھی بات کی جانی تھی جس میں سرفہرست مسئلہ کشمیر تھا البتہ پاکستان میں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ شاید یہ کانفرنس صرف مسئلہ کشمیر کے لیے ہی کی جارہی ہے۔ اس کانفرنس میں ایران، قطر اور ترکی کی نمایاں شرکت نے کانفرنس کے بنیادی ایجنڈے کو بھی مشکوک بنا دیا اور ملائشین وزیراعظم سمیت کچھ رہنماؤں کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آگئے کہ جیسے یہ او آئی سی کے مقابلہ میں ایک نیا فورم کھڑا کیا جا رہا ہے۔ اس تاثر کے بعد سعودی عرب اور خلیج میں دیگر اس کے حلیف ممالک میں خدشات پیدا ہو گئے جس کی وجہ سے پاکستان کی شرکت پر بھی سوالیہ نشان اٹھنا شروع ہو گئے۔ پاکستان سعودی عرب اور ایران کی جنگ میں ہمیشہ جہاں غیر جانبدارانہ کردار ادا کرتا رہا ہے وہاں اس کی خارجہ پالیسی کا جھکاؤ سعودی عرب کی طرف بھی رہا ہے جس کی بڑی وجہ سعودی عرب کی جانب سے ہمیشہ پاکستان کی غیر مشروط مدد ہے۔اسی طرح تحفظ حرمین شریفین کے لیے پاکستان کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ اسی طرح پاکستان نے جہاں ایران اور سعودی عرب کی درمیان اختلافات کو کم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے وہیں سعودی عرب یمن جنگ میں پاکستان نے اپنے آپ کو اس جنگ میں عملی شرکت سے دور رہ کر سعودی عرب کی حمایت کی ہے اور یمن کے باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں واضح طور پرسعودی عرب کا ساتھ دیا ہے۔ پاکستان نے اپنے اس کردار کو غیر جانبدارانہ رکھنے کی ہمیشہ کوشش کی ہے تاہم اس کانفرنس کے انعقاد سے پہلے ہی ایسا ماحول بنادیا گیا کہ جس سے یہ محسوس ہو رہا تھا کہ یہ اجلاس او آئی سی کے مدمقابل ایک فورم بن کر ابھرے گا جس کی وجہ سے پاکستان کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا پڑا اور اس اجلاس میں وزیراعظم نے شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔ یہاں اس امر کا زکر کرنا بھی ضروری ہے کہ قطر اور ترکی کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو درپردہ یا کھلے بندوں اخوان المسلمین کی حمایت کرتے ہیں اسی طرح سعودی عرب یہ بھی محسوس کرتا ہے کہ ملائشین وزیر اعظم بھی ترکی اور قطر کی طرح اخوان المسلمین کے لیے ہمدردی کے جذبات رکھتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کے لیے یہ بہت مناسب تھا کہ جس طرح وہ یمن کی جنگ میں فریق نہیں بنا اسی طرح یہاں بھی اسے اپنا دامن صاف رکھنا چاہیے تھا۔
جہاں تک اس کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے نقصانات کا تعلق ہے تو یہ بہت واضح ہے کہ پاکستان کو سفارتی لحاظ سے یا مسئلہ کشمیر کے لحاظ سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہو سکتا اس فورم کے لیے مستقبل قریب میں کوئی بڑی پیش ر فت ممکن نہیں ہے البتہ مستقبل بعید میں اگر یہ کوئی بڑا کردار ادا کرتا ہے تو اس وقت حالات کے مطابق فیصلہ کیا جا سکتا ہے تاہم پاکستان کو فریق بننے سے ذیادہ نقصان ہو سکتا تھا۔ جہاں تک مسئلہ کشمیر کا تعلق ہے تو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ایک ایسے فورم کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل کی امید نہیں کی جاسکتی جس کا ابھی کوئی وجود ہی نہ ہو تاہم یقینا اس فورم کے ذریعے اس مسئلہ کو ضرور اجاگر کیا جا سکتا تھا جبکہ یہی کام پاکستان او آئی سی کے ذریعے بھی کر رہا ہے اور ذرائع یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ مسئلہ کشمیر پر او آئی سی جلد ہی ایک اہم اجلاس کرنے جا رہا ہے جس کی یقین دہانی کے بعد ہی پاکستان نے ملائشیا میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت سے انکار کیاہے۔ دوسری طرف ایک موقف یہ بھی ہے کہ اس میں شرکت سے انکار کے بعد ملائشیا، قطر، ترکی اور ایران کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت کم ہو جائے گی۔ یہ موقف کسی طرح سے درست نہیں ہے کیونکہ ملائشیا اور ترکی محض اس امر کی بنیاد پر پاکستان سے اپنے تعلقات کم سطح پر نہیں لا سکتے اور نہ ہی مسئلہ کشمیر پر اپنے موقف سے دستبردار ہو سکتے ہیں۔ ایران مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے اسی حد تک جا سکتا ہے جہاں تک اس کے مفادات اسے اجازت دیتے ہیں اپنے مفادات کی آگے ایران جاہی نہیں سکتا اور یہ بڑا واضح ہے کہ ایران بھارت تعلقات محض مسئلہ کشمیر کی وجہ سے کمزور نہیں ہو سکتے۔ ایران بھارت تعلقات میں کئی ایسے منصوبہ جات بھی موجود ہیں جن کا ہدف پاکستان ہے۔ چاہ بہار بندرگاہ اس بات کا واضح ثبوت ہے جبکہ پاکستان کے پاس ایسی اطلاعات بھی موجود ہیں کہ بلوچستان میں ہونے والی بھارتی کوششوں میں ایران کی بالواسطہ یا بلاواسطہ حمایت بھارت کو رہی ہے۔ پاکستان اور ایران کے تعلقات اگرچہ نہایت خوشگوار اور برادرانہ ہیں تاہم بعض معاملات میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ کشیدگی بھی رکھتے ہیں جن میں اہم سرحد ی علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کے علاوہ ایک مخصوص فرقہ سے تعلق رکھنے والے فرقہ وارانہ گروہوں کی معاونت بھی شامل ہے خواہ وہ انفرادی طور پر ہو یا سرکاری طور پر لیکن اس سے انکار ممکن نہیں کہ کراچی سے پکڑے جانے والے دہشت گردوں کی ایرانی علاقوں میں تربیت ہوئی اور عزیر بلوچ جیسے دہشت گرد بھی ایران سے ہی معاونت حاصل کرتے رہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہملائشین وزیراعظم نے اس کانفرنس سے قبل سعودی فرماں روا سلمان بن محمد سے ٹیلی فون پر گفتگوبھی کی۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے اپنے موقف سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا اور ایک دوسرے سے اختلاف رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کی رائے کا احترام بھی کیا۔ سلمان بن محمد نے واضح طور پر کہا کہ امت مسلمہ کے مسائل کے حل کے لیے او آئی سی موجود ہے جس پر بات ہونی چاہیے جس پر دونوں راہنماؤں نے اتفاق کیااور اس پر بھی اتفاق رائے ہوا کہ او آئی سی کا اجلاس بلایا جانا چاہیے اور باہمی مسائل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔اسی طرح ملائشین میڈیا کے مطابق وزیراعظم مہاتیر محمد نے ان خبروں کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا کہ عمران خان نے سعودی دباؤ کی وجہ سے کانفرنس میں شرکت نہیں کی ان کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس میں شرکت کرنا عمران خان کی صوابدید ہے ان کی پسند ہے تاہم کوئی مجبوری نہیں۔ اسی طرح ترک صدر نے بھی پاکستان کے لیے خیر سگالی کا پیغام دیتے ہوئے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ مستقبل میں ترکی اور پاکستان کے تعلقات میں واضح طور پر بہتری اور پائداری دیکھ رہے ہیں جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ترک صدر اس کانفرنس میں پاکستان کی غیر حاضری کو کسی قسم کا ایشو بنانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ان حقائق کے باوجود پاکستان کو کسی نہ کسی حد تک اس کانفرنس میں شرکت ضرور کرنی چاہیے تھی اس فورم کو یقینا خالی نہیں چھوڑنا چاہیے تھا خواہ یہ شرکت دفتر خارجہ کا کوئی کم سطح کا آفیسر ہی کرتا۔ عالمی سطح پر جاری کھیل میں مہرے چلنے کے لیے ہمیشہ احتیاط کرنی چاہیے اور کوئی بھی فورم خالی چھوڑنے سے فائدہ نہیں ہو سکتا۔پاکستان نے ہمیشہ مسلم ممالک کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کیا ہے اور اس موقع پر بھی پاکستان کو اپنا یہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنا چاہیے جو کہ مسلم امہ کے مفاد میں ہے۔ مسلم امہ یقنیا ً کسی ایسے فورم کی متحمل نہیں ہو سکتی جس میں سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک شامل نہ ہوں۔

Please follow and like us: