چین کا 46 سالہ شخص لائی ہوا طویل آپریشن کے بعد اب سیدھا کھڑا ہوسکتا ہے (فوٹو: فائل

بیجنگ: چین میں عجیب و غریب مرض میں گرفتار شخص 30 سال بعد پہلی بار سیدھا کھڑا ہوکر چلنے کے قابل ہوگیا۔ 46 سالہ لائی ہوا ایک مرض اینکلوزنگ اسپونڈی لائٹس کا شکار تھا اور اس کا دھڑ آگے کی جانب اس قدر مڑ چکا تھا کہ اس کا چہرہ رانوں سے چپکا ہوا تھا۔

اب ایک طویل آپریشن کے بعد اس کی کمر کو سیدھا کردیا گیا ہے اور وہ سہارے چلنے بھی لگا ہے۔ 18 برس کی عمر میں وہ ایک نایاب بیماری اینکلوزنگ اسپونڈی لائٹس میں مبتلا ہوکر دھیرے دھیرے آگے کی طرف جھکنے لگے اور یہاں تک کہ ایک گھٹڑی کی صورت اختیار کرگیا تھا۔ اس چین میں لپٹے ہوئے آدمی یا فولڈنگ مین کے نام سے پکارا جانے لگا تھا۔ کیونکہ اس کا چہرہ ہر وقت اس کی اگلی رانوں سے ٹکراتا تھا۔

غربت کا شکار لائی ہوا مہنگا علاج کرانے سے قاصر تھا لیکن اس کی خبریں مشہور ہوئیں تو شینزن یونیورسٹی جنرل ہسپتال میں ہڈیوں اور ڈھانچے کے ماہر پروفیسر ٹاؤ ہیویرن نے اس کے علاج کا عزم کیا۔ ڈاکٹر کے مطابق یہ ایک پیچیدہ اور شدید نوعیت کا واقعہ ہے جس کا آپریشن بہت مشکل ، وقت طلب اور پیچیدہ تھا۔

ہڈیاں توڑی اور جوڑی گئیں

’ پروفیسر ٹاؤ کے مطابق ضروری تھا کہ پہلے ہڈیوں کو توڑا جائے اور اس طرح ریڑھ کی ہڈیوں، پسلی کے کچھ حصوں اور ران کی ہڈیوں کو توڑا گیا۔ اس کے بعد ریڑھ کے ہڈی کے پورے نظام کو سیدھا کیا گیا۔ اس عمل میں خطرے کی شرح 20 سے 30 فیصد تھی اور زندگی بھر کے لیے معذور ہوجانے کے امکانات بہت زیادہ تھے۔

ایسے مریض کم از کم اپنا سر ضرور اٹھاسکتے ہیں لیکن لائی ہوا اس سے بھی قاصر تھا اور یوں آپریشن مزید پیچیدہ اور مشکل ہوگیا تھا۔ اس طرح اس کا چہرہ ران سے چپکا تھا، ٹھوڑی سینے کو چھورہی تھی اور پورا دھڑ کمبل کی طرح لپٹا ہوا تھا۔ لیکن آپریشن نہ کرنے کی صورت میں بھی مریض کی زندگی کو خطرہ تھا کیونکہ پھیپھڑوں اور دل پر شدید دباؤ کی کیفیت تھی۔ اس تکلیف کا اظہار لائی ہوا بار بار کرچکا تھا۔

سرجن حضرات نے اس عمل کو ایورسٹ کی چوٹی چڑھنے کے برابر مشکل قرار دیا جس میں چار مراحل کے بعد مریض کو سیدھا کیا گیا۔ اب لائی ہوا ایک واکر کی مدد سے چل پھر سکتا ہے اور بہت جلد وہ کسی سہارے کے بغیر چل پھر سکے گا۔

Please follow and like us: