فیس بک سے مزید 26 کروڑ صارفین کا ڈیٹا چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے (فوٹو: فائل

 لندن: اپنے صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ میں کمزور ترین ثابت ہونے والی کمپنی فیس بک کے ڈیٹا پر ایک اور بڑی نقب لگی ہے اور ہیکروں نے کل 26 کروڑ 50 لاکھ افراد کا ڈیٹا، تصاویر، آئی ڈی، ای میل اور فون نمبر نہ صرف ہیک کرلیے بلکہ خدشہ ہے کہ یہ تفصیلات اب ڈارک ویب پر بھی بھیجی جاچکی ہیں۔

اس کی سب سے پہلی خبر ایک ویب سائٹ کمپیئری ٹیک نے دی تھی جس نے کہا تھا کہ ہیکروں نے کروڑوں اکاؤنٹس کی ساری معلومات کو ایک ہیکر فورم پر ڈال دیا ہے اور ان کا تعلق عادی جرائم پیشہ گروہوں سے ہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ یہ معلومات ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہیں۔ اس ڈیٹا بیس میں زیادہ تر امریکی شامل ہیں۔

فیس بک کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’ہم اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن غالباً یہ معلومات فیس بک کی احتیاطی تدابیر سے قبل چوری کی گئی ہیں کیونکہ کئی برس قبل فیس بک نے صارفین کے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے اہم اقدامات اٹھائے تھے‘ ۔

کمپیری ٹیک کے سیکیورٹی ماہر بوب ڈائیشینکو نے کہا ہے کہ فیس بک کا یہ ڈیٹا بیس اب بھی موجود ہے جو کھلا ہے اور اس تک رسائی حاصل کرسکتا ہے جس میں کروڑوں افراد کی فیس بک تفصیلات موجود ہیں تاہم اس جمعرات تک یہ تفصیلات ہٹا دی گئی تھیں۔

فیس بک کی جانب سے عوامی ڈیٹا پر نقب زنی کے کئی واقعات ہوچکے تھے اور ایسے اسکینڈل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس سے قبل فیس بک نے خود اعتراف کیا تھا کہ 87 ملین افراد کے ڈیٹا کا کچھ حصہ ضرور چوری ہوا ہے جس میں اکثریت امریکیوں کی ہے، اس سال کے شروع میں فیس بک اسی جرم کے پاداش میں 5 ارب ڈالر جرمانہ بھی ادا کرچکا ہے۔

Please follow and like us: