آکوپنکچر اور آکوپریشر سے وہ تکالیف بھی ختم ہوتی ہیں جو جدید درد کش دواؤں سے کم نہیں ہوتیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

نیویارک: جدید میڈیکل سائنس میں آکوپنکچر اور آکوپریشر جیسے معالجوں کو اب تک غیر سائنسی اور بے بنیاد قرار دے کر ردّ کیا جاتا رہا ہے لیکن اب ایک حالیہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ مشرق میں ہزاروں سال سے استعمال ہونے والے ان معالجاتی طریقوں سے کینسر کے مریضوں کے جسم میں اٹھنے والی تکلیف کم کرنے میں خاطر خواہ مدد لی جاسکتی ہے۔

تازہ تحقیق سے انکشااف ہوا ہے کہ کینسر کے مریضوں میں اٹھنے والی شدید تکلیف پر اگرچہ درد ختم کرنے والی جدید ترین دواؤں تک کا بے حد کم اثر ہوتا ہے لیکن اس معاملے میں بھی آکوپنکچر اور آکوپریشر سے مریض کے درد میں کمی آتی ہے۔

واضح رہے کہ ’’جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن نیٹ ورک‘‘ کو اب مختصراً ’’جاما نیٹ ورک‘‘ کا نام دیا جاچکا ہے جس کے تحت درجن بھر سے زائد میڈیکل ریسرچ جرنلز شائع ہوتے ہیں جبکہ ان تمام تحقیقی جرائد کو دنیا بھر میں بہت معتبر اور محتاط تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان ہی میں سے ایک ’’جاما اونکولوجی‘‘ بھی ہے۔

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ’’جاما اونکولوجی‘‘ میں شائع ہونے والی کسی ریسرچ رپورٹ کو بھی معتبر اور قابلِ اعتماد ہی سمجھا جانا چاہیے۔

مذکورہ مطالعہ بنیادی طور پر 31 مختلف طبی مطالعات کے تجزیوں پر مبنی تھا جن میں مجموعی طور پر کینسر کے 2000 سے زیادہ مریض شریک ہوئے تھے۔ ان تمام مطالعات میں آکوپنکچر اور آکوپریشر کروانے والے اور نہ کروانے والے، دونوں طرح کے مریض شامل تھے۔

تجزیوں کے اختتام پر ایک جامع نتیجہ یہی سامنے آیا کہ کینسر کے مریضوں کی تکلیف میں جو کمی آکوپنکچر اور آکوپریشر کی بدولت ہوئی تھی، جدید درد کُش دوائیں کھانے کے اثرات بھی ان سے بہت کم تھے، یا پھر نہ ہونے کے برابر تھے۔
اگرچہ ابھی تک ہمارے پاس ایسی کوئی وضاحت موجود نہیں جو آکوپنکچر اور آکوپریشر کے طبّی فوائد کو قابلِ فہم اور درست سائنسی انداز میں بیان کرسکے لیکن یہ بات بڑی حد تک ثابت ہوگئی کہ ان دونوں روایتی طریقہ ہائے علاج سے کینسر کے مریضوں کی تکلیف میں نہ صرف کمی آتی ہے بلکہ یہ تدابیر ایسے مواقع پر بھی کام کرتی ہیں جہاں درد ختم کرنے والی جدید ایلوپیتھک دوائیں بھی بے اثر ثابت ہوتی ہیں۔

البتہ، فی الحال اس بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ آکوپنکچر اور آکوپریشر کی بدولت غالباً ہمارے امیون سسٹم اور درد سے نجات دینے والے نظام میں کچھ اس طرح سے تحریک پیدا ہوتی ہے جیسے کہ اصل میں مؤثر دوا کھا لی گئی ہو۔

Please follow and like us: