ہالینڈ میں آتشبازی
تحریر۔۔۔۔جاوید عظیمی
ہر سال کروڑوں یوروکی آتشبازی
انسانی جانوں اور املاک کا نقصان بھی ہوتا ہے
ایسی بے جا فضول خرچی سے اجتناب کرنا چاہیے
ہر سال دنیا بھر اور بالخصوص ہالینڈ میں نئے سا ل کی آمد پر جشن منایا جا تا ہے جس پر ایک محتاط انداز ے کے مطابق کروڑوں یورو صرف آتشبازی پر خرچ کئے جاتے ہیں وہ بھی مخص ایک گھنٹے کے لئے جو انتہائی فضول خرچی کے علاوہ کچھ نہیں گزشتہ سالوں کے جانی و مالی اور املاک کے نقصان کا جائزہ لیں تو سال نو پر ہونے والی آتشبازی سے لاتعداد گاڑیاں جلا دی گئیں اور عمارتوں کو بھی آگ لگائی گئی اس کے لئے جانی نقصان بھی ہوا ۔تفصیلات کچھ اس طرح ہیں جیسے ہی دسمبر کے مہینے کا آغاز ہو تا ہے تو آتشبازی کے عمل میں حصہ لینے والے 95فی صد خواتین و حضرات خاص طور پر نوجوان آتشبازی کے سامان کی خریداری کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں۔25دسمبر یعنی کرسمس کے بعد اس آتشبازی جس میں زور دار دھماکہ کرنے والے بم نما پٹاخوں کو چلانے کا آغاز کر دیا جاتا ہے جیسے جیسے تاریخیں یکم جنوری کی جانب بڑھتی ہیں تو ان پٹاخوں کی آوازوں میں بھی بتدریج اضافہ ہو جاتا ہے ۔31دسمبر رات بارہ بجے ہی سال نو کی خوشی اور اس کے استقبال میں آتشبازی اپنے نقطہ عروج پو ہوتی ہے اتنے زوردار دھماکے ہوتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے جیسے کسی ملک نے ہالینڈ پر حملہ کر دیا ہے ہر جانب سڑکوں پر خواتین وحضرات اور نوجوان پٹاخے چلانے کے لئے ادھر ادھر دوڑ رہے ہوتے ہیں یہاں تک کہ ایک دوسرے پر پٹاخے پھینکے جا رہے ہوتے ہیں جس کے باعث کئی افراد اپنےجسمانی اعضاء سے بھی محروم ہو جاتے ہیں اور پھر سڑکوں پر اپنے گھر کے سامان کو آگ لگا دی جاتی ہے ۔اس آگ لگانے کے عمل کے لئے بہت سی سڑکیں بلاک کر دی جاتی ہیں خواتین و حضرات اور بلخصوص نوجوان مذکورہ عمل میں برابر کے شریک ہوتے ہیں یہ سلسلہ رات بارہ بجے سے رات 2بجے تک تسلسل کے ساتھ جاری رہتا ہے اس دوران صرف ہالینڈ میں کروڑوں یورو کو آگ کی نظر کر دیا جاتا ہے جو سراسر فضول خرچی کے زمرےمیں آتا ہے۔جو افراد اس آتشبازی کا حصہ نہیں ہوتے ان کو بہت تکلیف دہ عمل سے گزرنا پڑتا ہے دل کے امراض میں مبتلا خواتین وحضرات کے لئے انتہائی پر یشان کن وقت ہو تا ہے مگر ان لوگوں کو کسی کی پرواہ نہیں ہو تی۔اگر یہ کروڑوں یورو جو آتشبازی کی نظر کردیئےجاتے ہیں اس رقم کو اگر غریب ممالک میں امداد اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کر دیا جائےتو غریب انسانوں کو دو وقت کی روٹی میسر آجائے گی مگر یہ لوگ انسانوں کی مدد کے بجائے فضول خرچی کو ترجیح دیتے ہیں باشعور انسان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

Please follow and like us:
error