پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات میں تلخی کی ایک وجہ سورج گرہن بھی ہے، ، ماہرین علم نجوم فوٹوفائل

لاہور: پاکستان سمیت دنیا کے بیشترممالک میں 26 دسمبرکوسورج گرہن ہوگا یہ گرہن اس لحاظ سے منفردہے کہ یہ 118 برس بعد ہونے جارہا ہے۔

26 دسمبر کو ہونے والا سورج گرہن اپنی نوعیت کا منفرد دائرہ نما سورج گرہن ہوگا 97 فیصد گرہن ہوگا، ماہرین علم نجوم کا کہنا ہے کہ سورج گرہن کے اثرات 15 دن پہلے ہی شروع ہوگئے تھے جو گرہن لگنے کے 15 دن بعدتک ہوں گے، پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات میں تلخی کی ایک وجہ سورج گرہن بھی ہے، مذہبی اسکالرکہتے ہیں سورج اورچاند گرہن اللہ کی نشانیاں ہیں، یہ کوئی فائدہ اورنقصان نہیں پہنچا سکتے ہیں۔

ڈائریکٹرمحکمہ موسمیات پنجاب میاں اجمل نے بتایاکہ سورج گرہن پاکستانی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوگا، 8 بج کر 37 منٹ پر یہ اپنے عروج پر ہوگا، گرہن دوپہر1 بج کر 6 منٹ تک مکمل طور پر ختم ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا جب چاند گردش کرتا ہوا زمین اور سورج کے درمیان آجاتا ہے تو اُس وقت سورج گرہن واقع ہوتا ہے لیکن جب زمین گردش کرتی ہوئی اپنے مدار میں سورج اور چاند کے درمیان آجاتی ہے تو چاند گرہن واقع ہوتا ہے۔

یہ سورج گرہن رواں برس کا چوتھا سورج گرہن ہے۔ سال 2019 میں پہلا سورج گرہن 6 جنوری کو ہوا تھا جو جزوی تھا۔ سال کا دوسرا اور تیسرا مکمل سورج گرہن 2 اور 3 جولائی کو ہوا تھا۔ پہلے تینوں سورج گرہن کا نظارہ پاکستان میں نہیں دیکھا گیا تھا۔

میاں اجمل نے بتایا کہ سورج گرہن کے وقت سورج سے خطرناک شعائیں نکلتی ہیں اس لئے گرہن کے وقت سورج کی طرف کھلی آنکھ سے نہیں دیکھنا چاہیئے بلکہ کوئی مخصوص چشمہ یا ایکسرے فلم استعمال کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سورج اورچاند گرہن کے انسانی مزاج اور زندگی پرکیا اثرات مرتب ہوتے ہیں سائنس تواسے نہیں مانتی ہے مگرجولوگ ستاروں کے علوم کومانتے ہیں ان کے مطابق سورج اورچاندگرہن کے مثبت اور منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

علم نجوم کے ماہرسید مصدق زنجانی سے جب اس حوالے سے پوچھاگیا توانہوں نے کہا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے مختلف آسمانی برجوں کا ذکرکیاہے۔ اللہ تعالی نے ان کا باقاعدہ ایک نظام بنایاہے۔ انہوں نے کہا سورج گرہن کے وقت یا اس دن جوبچے پیداہوں گے ان پراس کے اثرات مرتب ہوں گے، حاملہ خواتین کو گھرسے باہرنہیں نکلناچاہیے اورکوشش کریں کہ گرہن کے وقت کمرے کے اندرہی رہیں۔

انہوں نے مزیدکہا کہ سورج گرہن کے اثرات ملک پربھی مرتب ہوتے ہیں۔یہ اثرات  10 دسمبرکے بعدسے شروع ہوگئے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لاہورمیں رونما ہونے والا پی آئی سی کا سانحہ، جنرل مشرف کوسنائی گئی سزا اورخطے کی عمومی صورتحال میں کشیدگی کی ایک وجہ سورج گرہن بھی ہے۔ سورج گرہن کے بعدمزید15 دن تک اثرات رہتے ہیں۔ مصدق زنجانی نے کہا برج قوس، حمل اور اسد کے حامل افرادپرسورج گرہن کے زیادہ اثرات مرتب ہوں گے۔

جامعہ نعیمیہ کے سربراہ اوراسلامی نظریاتی کونسل کے رکن ڈاکٹرراغب نعیمی کہتے ہیں کہ سورج اورچاند گرہن اللہ کی نشانیاں ہیں، گرہن انسانوں کوکوئی نفع یا نقصان نہیں پہنچاسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نبی کریمﷺ کی حیات مبارکہ میں سورج گرہن رونماہواتھا، بعض لوگوں نے کہا کہ آپ ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کی وفات سورج گرہن کی وجہ سے ہوئی ہے تو آپ ﷺ نے انہیں ایسا کہنے سے منع فرمایا اورکہا کہ ایسا نہیں ہے، زندگی، موت، تندرستی اوربیماری اللہ کی طرف سے ہے۔

ڈاکٹرراغب نعیمی نے بتایا کہ آپ ﷺ کی سنت مبارکہ  ہے کہ جب سورج گرہن ہوتواس وقت اللہ تعالی سے دعامانگی جائے اورنمازکسوف اداکی جائے، اس نمازمیں رکوع، قیام اورسجودطویل کیے جاتے ہیں اوراس وقت تک اللہ تعالی سے دعا مانگی چاہیے جب تک گرہن ختم نہ ہوجائے۔

Please follow and like us: