موٹاپا کم کرکے 26 لاکھ روپے سے لے کر 56 لاکھ روپے تک کی بچت ممکن ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ

بالٹی مور: جان ہاپکنز یونیورسٹی کے طبّی ماہرین نے حساب لگایا ہے کہ اگر کوئی شخص موٹاپے سے چھٹکارا پا لیتا ہے تو اس سے نہ صرف اس کی صحت اچھی ہوتی ہے اور عمر میں اضافہ ہوتا ہے، بلکہ اس شخص کو زبردست مالی فائدہ بھی ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے پس پشت کارفرما سوچ بہت سادہ سی تھی: اگر آپ کا موٹاپا ختم ہوجائے گا اور وزن نارمل پر واپس آجائے گا تو نتیجتاً صحت کی مد میں آپ کے اخراجات بھی کم رہ جائیں گے۔ یعنی آپ کو علاج معالجے اور دواؤں پر بھی خاصی کم رقم خرچ کرنا ہوگی… اور یہی موٹاپا ختم کرنے کا اصل انعام بھی ہے۔

ماہرین نے ایک کمپیوٹر سمیولیشن کے ذریعے معلوم کیا کہ وہ بچے اور نوجوان جو طبّی اصطلاح میں ’’موٹے‘‘ ہیں، اگر وہ 20 سال کی عمر تک اپنا موٹاپا اس حد تک کم کرلیں کہ ’’زائد وزن‘‘ (اوور ویٹ) رہ جائیں تو اس سے انہیں پوری زندگی میں 17 ہزار ڈالر (26 لاکھ پاکستانی روپے) کی بچت ہوگی۔ اور اگر وہ اپنا وزن مزید کم کرکے ’’نارمل‘‘ ہوجائے تو بچت کی شرح 28 ہزار ڈالر (43 لاکھ روپے) سے بھی زیادہ ہوجائے گی۔

اسی طرح وہ لوگ جن کی عمر 40 سے 49 سال کے درمیان ہے، اگر وہ موٹاپے سے کم ہوکر زائد وزن رہ جائیں تو وہ اپنی آئندہ زندگی میں 18 ہزار ڈالر (تقریباً 28 لاکھ روپے) جتنی رقم بچا رہے ہوں گے؛ جبکہ صحت مند یعنی ’’نارمل‘‘ وزن کرنے پر ان کی بچت 31 ہزار ڈالر (48 لاکھ روپے) کے لگ بھگ ہوگی۔

اگرچہ زندگی کی پانچویں دہائی میں وزن کم کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا لیکن وہ لوگ جو 50 سے 59 سال کی عمر میں موٹاپے سے چھٹکارا پا کر صرف زائد وزن بھی ہوجاتے ہیں، انہیں اپنی باقی ماندہ زندگی میں 36 ہزار ڈالر (تقریباً 56 لاکھ روپے) کی بچت ہوگی۔

تحقیقی مجلے ’’جرنل آف اوبیسیٹی‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع شدہ اس رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ موٹاپا کم کرنے کے طبّی فوائد تو بیان کیے ہی جاتے ہیں لیکن اگر مالی فوائد بھی لوگوں کے سامنے پیش کردیئے جائیں تو ہوسکتا ہے کہ وہ صحت مندانہ طرزِ زندگی اختیار کرنے میں زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ کریں۔

Please follow and like us: