ملزم کا ڈی این اے کرایا جائے گا، پراسیکیوٹر محسن مصطفیٰ فوٹو:ٹوئٹر

مانسہرہ: جوڈیشل مجسٹریٹ نے مدرسہ کے کم سن طالب علم سے زیادتی کے الزام میں گرفتار استاد قاری شمس الدین کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

مانسہرہ میں پولیس نے بچے سے زیادتی کیس کے ملزم کو سخت سیکورٹی میں مقامی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا اور 14 دن کے ریمانڈ کی استدعا کی۔ عدالت نے 14 روز کی بجائے 5 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزم کو پولیس کے حوالے کردیا۔

پراسیکیوٹر محسن مصطفیٰ نے کہا کہ ملزم کا ڈی این اے کرایا جائے گا اور اسے تین دن تک گرفتاری سے بچانے اور پناہ دینے والوں کو بھی شامل تفتیش کیاجاسکتا ہے۔

چند روز قبل مانسہرہ کے ایک مدرسے میں 10 سالہ بچے سے مبینہ طور پر بدفعلی اور تشدد کا واقعہ پیش آیا جس کے الزام میں استاد قاری شمس الدین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے مدرسہ کو سیل کردیا ہے۔ بچے پر اس قدر بہیمانہ تشدد کیا گیا کہ اس کی آنکھوں پر زخم پڑگئے اور سرخ ہوگئیں۔

مدرسے کی انتظامیہ کی جانب سے ملزم کی گرفتاری میں رکاوٹیں ڈالی گئیں اور جے یو آئی رہنما مفتی کفایت اللہ کا کہنا ہے کہ زیادتی قاری شمس الدین نے نہیں کی بلکہ کسی دوسرے طالب علم نے بچے پر تشدد کیا ہے۔

Please follow and like us: