تصویر میں ٹیکے کی سوئی پر دنیا کا سب سے چھوٹا سینسر دیکھا جاسکتا ہے۔ فوٹو: نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور

سنگاپور سٹی: حیاتیاتی (بایو) سینسر اس وقت بھی مختلف جسمانی کیفیات معلوم کرنے کے کام کررہے ہیں لیکن بعض سینسر بدن کے اندرونی نظام کی خبر لینے کے لیے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں دنیا کا سب سے چھوٹا بایو سینسر بنایا گیا ہے جو کسی بیٹری کے بغیر وائرلیس کے ذریعے کام کرتا ہے۔

نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے انجینئرز نے اس سے قبل بیٹری کے بغیر چلنے والے کئی سینسر بنائے تھے لیکن اب انہوں نے دنیا کا سب سے چھوٹا بایو سینسر بنایا ہے انجکشن کی سوئی کے سوراخ میں سما سکتا ہے۔ اسے بطورِ خاص مریضوں کی اندرونی جسمانی کیفیات کا پتا لگانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

بایوسینسر جسم کے اندر رہتے ہوئے جسم کے باہر موجود وائرلیس نظام سے توانائی لیتا ہے اور اس سے بجلی بنا کر اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ اس طرح روایتی سینسروں کی طرح اس کی بیٹری بار بار تبدیل کرنا بھی ضروری نہیں ہوتا۔

جسم میں بیرونی طور پر کام کرنے والے اس طرح کے بایو سینسر پر آر ایف آئی ڈی (ریڈیو فری کوئنسی ایڈینٹی فکیشن) چپ لگی ہوتی ہے۔ عین اسی طرح کا نظام اس بایو سینسر میں بھی استعمال کیا گیا ہے۔

اپنی مختصر جسامت کی بنا پر جسم کے قریب ہلکی توانائی کا وائرلیس ریڈر بھی لایا جائے تو اس کی لہروں کی توانائی چھوٹے سینسر کے لیے کافی ہوتی ہے۔ فی الحال نے ماہرین نے اس کی افادیت اور صلاحیت پر کچھ نہیں کہا ہے۔

تاہم اس کے ٹیم لیڈر جون ہو نے اتنا ضرور کہا ہے کہ سینسر کوئی نمائشی شے نہیں بلکہ یہ جسم میں رہتے ہوئے کئی طرح کی کیفیات اور امراض کا جائزہ لے سکتا ہے۔

Please follow and like us: