بغیر آنکھوں والی بصارت سے بھرپور اسٹار فش کی دریافت نے سائنس دانوں کو حیران کردیا ہے

 واشنگٹن: آنکھوں کے بغیر دیکھنا ممکن ہے یا نہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے جواب کی تلاش میں محققین، سائنس دانوں اور طبی ماہرین نے در در کی ٹھوکریں کھائی ہیں لیکن اس کا جواب آج تک حل طلب ہے گو چٹانوں کے درمیان بسنے والی ایک مخلوق کے مطالعے نے حوصلہ افزا نتائج بھی دیئے ہیں۔

کیریبین اور خلیج میکسیکو میں مونگے کی چٹانوں میں گھر بسائے اسٹار فش کی خاص قسم حیرت انگیز صلاحیت سے مالامال ہے، اس کے جسم میں آنکھیں نہیں ہوتیں لیکن پھر بھی یہ دیکھ سکتی ہیں۔ ریڈ بریٹل اسٹار مچھلی روشنی کو محسوس کرکے اسے ایک خاص سطح پر لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے، انہیں اوفیوکوما وینڈٹی بھی کہا جاتا ہے۔

یہ دوسری آبی حیات ہے جو آنکھوں کے بغیر بھی دیکھ سکتی ہے۔ اس سے پہلے سمندری حیات ‘اوچین‘ کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ بغیر آنکھوں کے بھی دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

سائنسی جریدے کرنٹ بائیولوجی میں ماہرین طب کی جانب سے جاری ایک تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس مچھلی کے جسم پر روشنی کو محسوس کرنے والے فوٹو رسیپٹرز اور کروماٹو فوریس نامی خلیات موجود ہوتے ہیں، ہر فوٹو رسیپٹر خلیہ کمپیوٹر اسکرین کے ایک پکسل کی طرح سے روشنی محسوس کرتا ہے جب کے دیگر فوٹو رسیپٹر خلیات کی مد سے مچھلی کو مجموعی طور پر ایک مکمل تصویر محسوس ہونے لگتی ہے۔

ماہرین طب اب اس بات پر تحقیق کر رہے ہیں کیا پیدائشی طور پر نابینا افراد کی بصارت کی بحالی میں یہ خاص قسم کی اسٹار فش کتنی مددگار ثابت ہوسکتی ہے؟ کیا انسانوں میں بھی ایسا نظام ترتیب دیا جاسکتا ہے؟ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ آنکھوں کے بغیر دیکھنے والی اس مچھلی میں بھی روشنی محسوس کرنے کا طریقہ انسانوں کی طرح ہی ہے۔ سائنس دان اس تحقیق سے طب کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے والے مزید مثبت اور بڑے نتائج ملنے کی امید کا اظہار کر رہے ہیں۔

Please follow and like us: