گڈز ٹرانسپورٹرزمطالبات کی منظوری تک غیرمعینہ مدت کی ہڑتال کے فیصلے پر برقرار ہیں ۔ فوٹو : فائل

 کراچی: گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال دوسرے روزمیں داخل ہوگئی جس کے باعث مال بردار گاڑیوں کا پہیہ مکمل طورپرجام ہے اوراشیا خورد و نوش کی اندرون ملک ترسیل سمیت پورٹ تک رسائی بھی بند ہے جس سے بحران کا خدشہ ہے۔

گڈزٹرانسپورٹرز کی پیر سے شروع ہونے والی ہڑتال دوسرے روز میں داخل ہوگئی ہے جس کے باعث کراچی پورٹ، پورٹ قاسم، ہاکس بے روڈ، کاٹھور جب کہ ہائی ویز کے مختلف مقامات پر ٹرک، ٹرالرز اور کار کیریئرز کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

ترجمان گڈز ٹرانسپورٹ امداد حسین نقوی کے مطابق گڈز ٹرانسپورٹرز سراپا احتجاج ہیں مگر وفاقی وزارت مواصلات خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے، وفاقی سطح پر کسی نے ہم سے رابطہ نہیں کیا، گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال پرامن ہے ایکسل لوڈ لمٹ قانون کا نفاذ اولین ترجیح ہے، گڈز ٹرانسپورٹرز یکم جنوری 2020 کو نافذ ہونے والے بھاری جرمانوں کے نوٹی فکیشن کو لوٹ مار کا نوٹی فکیشن سمجھتے ہیں، کراچی میں دو بین الاقوامی پورٹس ہیں مگر ٹرانسپورٹرز کو اپنے ٹرک ٹرالرز اور کار کیریئرز پارک کرنے کے لئے پارکنگ یارڈ دستیاب نہیں ہے۔

ترجمان گڈز ٹرانسپورٹ کا مزید کہنا ہے کہ جب تک مطالبات کے حوالے سے حکومتی سطح پر کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں کروائی جاتی غیرمعینہ مدت کی ہڑتال جاری رہے گی۔

Please follow and like us: