پینگولین کے اعضا کو چین کی مقامی ادوایات میں بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے فوٹو: فائل

 لاہور: انٹرنیشنل یونین فارکنزرویشن آف نیچر(آئی یوسی این) نے افریقا اورایشیا میں پائی والی جانے والی پینگولین کی 8 میں سے 3 اقسام کوان کی کم ہوتی تعدادکی وجہ سے خطرے سے دوچار جنگلی انواع کی ریڈ بک میں درجہ بندی تبدیل کردی ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں انڈین پینگولین کی افزائش میں اضافے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔

آئی یوسی این کی طرف سے جاری تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ افریقن پینگولین کی دواقسام کی افزائش میں گزشتہ 2 دہائیوں میں 50 فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے جس کی وجہ انہیں ولنرایبل درجہ سے ناپید ہونے کے خطرہ سے دوچار درجہ بندی میں شامل کرلیا گیا ہے جب کہ فلپائن نسل کی پینگولین کو ناپید سے انتہائی ناپید درجہ بندی میں شامل کیاگیا ہے۔

آئی یوسی این کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ افریقا اورایشا میں سالانہ دولاکھ پینگولین سمگل کئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی تعدادتیزی سے ناپیدہوتی جارہی ہے۔1960 سے 2019 تک صرف چین میں پینگولین کی تعدادمیں 94 فیصدکمی آئی ہے۔

محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کے ڈپٹی ڈائریکٹر چوہدری شفقت علی نے بتایا کہ 2016 میں جنوبی افریقا میں کنونشن آن انٹرنیشنل ٹریڈ ان ڈینجرڈسپیسیز (سائٹیز) کا اجلاس ہواتھا جس میں وہ بھی پاکستان کی طرف سے وفدسمیت شریک ہوئے تھے۔ اس اجلاس میں افریقا اورایشیا میں پائی جانے والی پینگولین کی 8 اقسام کو سائٹیز کے اپنڈکس 2 میں شامل کرلیا گیا تھا جس کے مطلب ہے کہ ان انواع کی کسی صورت ٹریڈ نہیں ہوسکتی ہے۔

چوہدری شفقت نے کہا کہ پینگولین کی افزائش میں اضافہ نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کی مصنوعی بریڈنگ کا تجربہ کامیاب نہیں ہوسکا ہےیہ صرف قدرتی جنگلی ماحول میں ہی افزائش پاتی ہے۔ پاکستان میں بھی پینگولین انتہائی خطرے سے دوچار ہے اور اس کی تقریباً 70 سے 80 فیصد آبادی ختم ہوچکی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے اعداد و شمار کے مطابق 2011 سے 2014 کے دوران 10 ہزارپینگولین سمگل کئے گئے۔پینگولین تقریبا پورے ملک میں پایا جاتا ہے مگر اس کی بڑی آماجگاہیں چکوال، پوٹھوہارریجن، پنجاب کے علاقوں، آزاد کشمیر، صوبہ خیبر پختون خوا، بلوچستان، سندھ، اور گلگت بلستان میں ہیں

وائلڈلائف ماہرین کے مطابق پینگولین سے نکلنے والے اسکیل یا سپیے کے علاوہ دیگر اعضا کو چین کی مقامی ادوایات میں بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے ،پینگولین کے اعضا سے تیار کی گئی ادویات عورتوں، بچوں کے امراض کے علاوہ جنسی امراض کے علاج کے لئے استعمال کی جاتی ہیں جب کہ چین اور ویت نام میں اس کا گوشت مرغوب غذا ہے۔ پینگولین کی کھال سے کئی اقسام کے ملبوسات ، لیڈیزبیگ اور جوتے تیار کئے جاتے ہیں جن کی پوری دنیامیں مانگ ہے۔حکام کے مطابق پاکستان سے پکڑے جانے والے پینگولین چین سمگل کئے جاتے ہیں یاپھرجنسی ادویات کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں

پنجاب وائلڈلائف کے اعزازی گیم وارڈن بدرمنیرنے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پینگولین سمیت مختلف جانوروں اورپرندوں کا شکار کھیلنے والے درجنوں افراد کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمے درج کئے گئے ہیں۔ ان اقدامات سے اب سالٹ رینج یعنی چکوال اور پوٹھوہارمیں کئی ایک مقامات پر انڈین پینگولین دیکھے گئے ہیں۔ پاکستان میں پہلی بارپینگولین پرڈاکومنٹری بھی بنائی گئی ہے۔ حال ہی میں اسلام آباد سمیت آزادکشمیر اور خیبرپختونخوا کے چندعلاقوں میں بھی انڈین پینگولین دیکھے گئے ہیں بلکہ کئی شہریوں نے ان کے ساتھ اپنی سیلیفیاں بھی سوشل میڈیا پر شیئرکی ہیں۔ پینگولین کوبچانے کے لئے مزیداقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔اس کے لئے جرمانے اورسزائیں بڑھانے کی ضرورت ہے۔

Please follow and like us: