ٹی او آئی 700 ڈی اپنے ستارے کے گرد قابلِ رہائش علاقے میں واقع ہے جسے سبز رنگ سے ظاہر کیا گیا ہے۔ (تصویر: ناسا/ جیٹ پروپلشن لیبارٹری

ہیوسٹن، ٹیکساس: امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’’ناسا‘‘ کی خلائی دوربین ’’ٹرانزٹنگ ایگزو پلینٹ سروے سٹیلائٹ‘‘ (ٹی ای ایس ایس) نے زمین سے 101 نوری سال دوری پر ایک ایسا سیارہ دریافت کرلیا ہے بظاہر نہ صرف ہماری زمین جیسا ہے بلکہ وہ اپنے ستارے کے گرد اسی علاقے میں موجود ہے کہ جس میں رہتے ہوئے اس پر زندگی وجود میں آسکتی ہے اور پروان بھی چڑھ سکتی ہے۔

ستارے کے گرد ایسے علاقے کو ’’قابلِ رہائش‘‘ (habitable) کہا جاتا ہے، یعنی وہاں زندگی نہ صرف وجود میں آسکتی ہے بلکہ ارتقائی منازل بھی طے کرسکتی ہے۔ کسی بھی سیارے پر زندگی کی اوّلین شرط ’’مائع حالت میں پانی‘‘ کو قرار دیا جاتا ہے؛ اور ’’ٹی او آئی 700 ڈی‘‘ کہلانے والے سیارے پر بھی مائع پانی موجود ہونے کی امید ہے۔

اگرچہ اس کی کمیت ہماری زمین سے 70 فیصد زیادہ ہے لیکن اس کی جسامت سیارہ زمین سے صرف 19 فیصد سے 30 فیصد تک زیادہ ہوسکتی ہے۔ یہ اپنے ستارے سے ٹھیک اتنے ہی فاصلے پر موجود ہے کہ جس پر رہتے ہوئے وہاں پانی بھی مائع حالت میں مل سکتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ ’’ٹی ای ایس ایس‘‘ دوربین سے دریافت ہونے والا، سب سے پہلا زمین جیسا سیارہ بھی ہے۔ اس دوربین کو بطورِ خاص ہمارے کائناتی پڑوس میں دوسرے ستاروں کے گرد سیارے ڈھونڈنے کی غرض سے خلاء میں بھیجا گیا ہے اور یہ کسی ستارے کی روشنی میں ہونے والی معمولی سی باقاعدہ کمی بیشی کو بنیاد بناتے ہوئے نئے سیارے ڈھونڈنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ٹی او آئی 700 ڈی کی حتمی دریافت سے اس خلائی کھوجی نے بھی اپنی افادیت تسلیم کروا لی ہے اور اب اس سے خلاء میں سیارے کھوجنے کا کام زیادہ بہتر طور پر اور زیادہ تیزی سے لیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ٹی ایس ایس کو اپریل 2018ء میں خلاء میں بھیجا گیا تھا جس کے مشن کا ابتدائی حصہ اگلے چند ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔

اگرچہ امید تھی کہ اپنے مدار میں پہنچنے کے دو سال ہی میں یہ دوربین 20 ہزار سے زیادہ ماورائے شمسی سیارے دریافت کرلے گی لیکن ہماری توقعات کے برعکس، یہ خلائی دوربین اب تک صرف 1400 کے لگ بھگ سیارے ہی دریافت کر پائی ہے۔ ایسے میں زمین سے بہت زیادہ مشابہت رکھنے والے کسی سیارے کی دریافت نے ’’ٹی ای ایس ایس‘‘ منصوبے سے وابستہ امیدیں ایک بار پھر روشن کردی ہیں۔

Please follow and like us: