تحریر: مرزاعمران بیگ

کشمیر کی عہد ساز شخصیت راجہ حمید اللہ خان مرحوم مجاہد اول سردار عبد القیوم خان مرحوم,سردار محمد ابراہیم خان مرحوم اور سردار سکندر حیات خان کے ان وفادار ساتھیوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنا سب کچھ جماعت اور کشمیر کاز کے لئے قربان کر دیاآپ مسلم کانفرنس کے بانی راکین میں سے تھے آپ انگریز دورکے گریجوایٹ تھے اور آرمی آفیسر کے طور پر اپنے کیرئیر کا آغاز کیا ریٹائرمنٹ کے بعد آپ نے علاقے کی ترقی اور کیمونٹی کی فلاح و بہبود کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیا اعلی تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے آپ تعلیم کی اہمیت اور ضرورت سے باخوبی واقف تھے اس لئے ہمیشہ تعلیم کی سہولیات کی فراہمی کے لئے کوشاں رہے راجہ حمیدللہ خان کے والداور دادا بھی علاقے کی نامور شخصیت تھے آپ کا آبائی علاقہ سماہنی ضلع بھمبر انتہائی پسماندہ علاقہ ہونے کی وجہ سے تعلیم میں بھی پیچھے تھا راجہ حمیدللہ خان مرحوم نے نہ صرف لوگوں کو بچوں کی تعلیم کی طرف راغب کیا بلکہ علاقے میں تعلیم کی سہولیات کی بہتر فراہمی کے لئے دن رات ایک کردیا اور تعلیم کے فروغ کے لئے کوئی کمی نہیں رہنے دی آپ ایک درویش منش انسان تھے سردار عبدلقیوم خان مرحوم کے بہت زیادہ قریب ہونے کے باوجود کبھی کوئی ذاتی فائدہ نہیں لیا کبھی الیکشن میں حصہ نہیں لیا اور اپنی پوری زندگی فلاحی اور رفاحی کاموں کے لئے وقف کر رکھی تھی آج تحصیل سماہنی کا پورا علاقہ ان کی خدمات کے گن گا رہا ہے انہوں نے کہیں سکول بنوائے اور کہیں بجلی کی سہولت بہم فراہم کروائی اور جہاں پر سڑک کی ضرورت تھی وہاں پر سڑک بنوائی 1989 ء میں آپ کی خدمات کے اعتراف کے طور پر وادی سماہنی کی سڑک کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا جس کا افتتاح اس وقت کے وزیر اعظم سردار عبدالقیوم خان مرحوم نے کیا حال ہی میں بڑھو کراس پر ان کے نام کا داخلی گیٹ نصب کر کے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا اگر یہ کہں کہ راجہ حمیداللہ خان کشمیرکے عبدالستار ایدھی ہیں اور آج بھی اپنی فلاحی خدمات کی وجہ سے لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کر رہے ہیں تو شاید غلط نہ ہو


یہ حقیت ہے کہ ایسے نیک اور خدمت خلق کا جذبہ رکھنے والوں کی اولاد بھی ان کے نقش قدم پر چلتی ہے اور ان کی قائم کی گئی مثالوں کو زندہ رکھتی ہے راجہ حمیدللہ خان مرحوم کے ایک بیٹے راجہ طارق خان آزاد کشمیر پولیس میں ایس پی ہیں جبکہ ایک بیٹے محکمہ تعلیم میں پروفیسر ہیں سیاسی و سماجی شخصیت بلقیس راجہ اپنے والد گرامی راجہ حمیدللہ خان کے نقش قدم پر چل رہی ہیں اور ان کے کام اور نام کو زندہ رکھا ہوا ہے سیاسی و سماجی شخصیت بلقیس راجہ خدمت خلق کے شعبہ میں ایک متحرک شخصیت کے طور پر اپنی ایک منفرد پہچان رکھتی ہیں آپ اعلی تعلیم یافتہ او ر انسانی خدمت کے جذبے سے بھر پور شخصیت کی مالک ہیں بلقیس راجہ کی اپنے علاقے کے لئے خدمات ان کی ہر دلعزیز شخصیت ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہیں بلقیس راجہ اپنے والد کی طرح غیر متنازعہ اور ہر دلعزیز شخصیت کی مالک ہیں بلقیس را جہ کا فوکس تعلیم پر بہت زیادہ ہے او رچاہتی ہیں کہ خواتین تعلیم حاصل کر کے آگے آئیں خواتین ملکی ترقی میں بہت موئثر کردار ادا کر سکتی ہیں اور اپنے علاقے کے لوگوں کیساتھ مسلسل رابطہ رکھتی ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ان کا علاقہ ہر لحاظ سے ترقی کرے بلقیس راجہ جیسی خواتین کوساتھ مسلسل رابطہ رکھتی ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ان کا علاقہ ہر لحاظ سے ترقی کرے بلقیس راجہ جیسی خواتین کو سیاست میں آکر خواتین کی نمائندگی کرنے کا موقع ملنا چاہئے بلاشبہ علاقہ ان پر فخر کرے گا

Please follow and like us:
error