پین امبرل چاند گرہن پاکستان میں بھی دکھائی دے گا۔ فوٹو: فائل

 کراچی: دنیا کے کئی ممالک کی طرح جزوی چاند گرہن یا پین امبرل لونر ایکلپس پاکستان میں بھی شروع ہوچکا ہے اور اسے جزوی چاند گرہن بھی کہا جاتا ہے جس میں زمین کا ہلکا سایہ چاند پر پڑتا ہے۔

پاکستان میں سال کا پہلا چاند گرہن شروع ہوگیا ہے جو یورپ، آسٹریلیا، ایشیا، افریقہ ، شمالی افریقہ کے غالب حصوں اور دیگر خطوں میں بھی دیکھا جارہا ہے۔ چاند گرہن کا اوسط دورانیہ چار گھنٹے بتایا جارہا ہے اور پاکستان کے مختلف مقامات پر اس کی ابتدا مختلف اوقات میں ہوئی ہے۔

کوئٹہ میں دس بج کر 7 منٹ پر چاند گرہن شروع ہوا اور بارہ بج کر دس منٹ پر اپنے عروج پر ہوگا۔ اس کے بعد گرہن کم ہونا شروع ہوگا اور یوں رات دو بج کر بارہ منٹ پر ختم ہوجائے گا۔عین اسی طرح چند منٹوں کے فرق سے چاند گرہن پاکستان کے دیگر حصوں میں بھی شروع ہوچکا ہے۔ پورے پاکستان میں چاند گرہن کا اوسط دورانیہ 4 گھنٹے پانچ منٹ ہوگا۔

چاند گرہن کیسے واقع ہوتا ہے؟

ہم جانتے ہیں کہ چاند کی اپنی کوئی روشنی نہیں ہوتی اور یہ زمین کی دوسری جانب موجود سورج کی روشنی کو منعکس کرکے روشن دکھائی دیتا ہے۔

جب ہماری زمین سورج اور چاند کے عین درمیان ایک سیدھی لائن میں پہنچ جاتی ہے تو زمین کا سایہ چاند پر پڑتا ہے جسے چاند گرہن کہا جاتا ہے۔ جیسے ہی زمین گھوم کر اس لائن سے آگے نکل جاتی ہے چاند گرہن ختم ہوجاتا ہے۔

چاند گرہن کی تین اقسام ہوتی ہیں جن میں مکمل، جزوی، اور پین امبرل چاند گرہن شامل ہیں۔ تیسری قسم میں زمین کا ہلکا سایہ چاند پر گرتا ہے اور چاند گرہن ہونے کے باوجود یہ کہیں نظر آتا ہے اور بعض مقامات پر بالکل دکھائی نہیں دیتا۔ تاہم پاکستان سمیت ایشیا کے کئی ممالک میں اسے دیکھا جاسکے گا۔

Please follow and like us: