خردبینی تصویر میں آرایم آئی ٹی یونیورسٹی کے ماہرین کے ایجاد کردہ نینوذرات نظر آرہے جو باقاعدہ بیکٹیریا کو ہلاک کرتے ہیں۔ فوٹو: آر ایم آئی ٹی

سڈنی: بیکٹیریا اور جراثیم انسانیت کے لیے بڑے ہلاکت خیز خطرات بنے ہوئے ہیں۔ ہمارا ادویاتی اسلحہ خانہ ان کے سامنے بے اثر ہوچکا ہے اور تگڑے ہوتے ہوئے بیکٹیریا کے سامنے نئی اینٹی بایوٹکس کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے لیکن نئی اینٹی بایوٹکس کی تیاری کے لیے بہت وقت، سرمایہ اور محنت درکار ہے۔

آسٹریلیا کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے حقیقت میں بیکٹیریا پر حملہ کرکے انہیں چیرپھاڑ کرنے پر تحقیق کی ہے۔ اس کے لیے سائنس دانوں نے مقناطیسی اور دھاتی مائع کے نینو ذرات (پارٹیکلز) بنائے ہیں۔ جب ایسے ذرات کو ہلکے مقناطیسی میدان میں رکھا جاتا ہے تو مائع دھات کے نینو قطرے اپنی شکل بدل لیتے ہیں اور ان کی کنارے نوک دار ہوجاتے ہیں۔ اب یہ اتنے باریک ہوتے ہیں کہ کسی نیزے کی طرح بیکٹیریا میں پیوست ہوکر اسے پنکچر کرنے کے قابل بن جاتے ہیں۔

تجربہ گاہ میں اسے بیکٹیریا کے باریک چادر (بایو فلم) پرآزمایا گیا تو صرف 90 منٹ میں ذرات نے اسے تباہ کرکے 99 فیصد بیکٹیریا کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔ اس سے تمام اقسام کے بیکٹیریا مرگئے اور انسانی خلیات (سیلز) کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

تحقیق کے مرکزی مصنف آرون ایلبورن کہتے ہیں کہ بیکٹیریا کیمیائی عمل کے سامنے مضبوط ہورہے ہیں اور ان پر حملہ کرکے مارنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں بچتا۔

سائنس دان آرون نے کہا کہ ’ہم نےمائع دھاتوں کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ بیکٹیریا کی بایوفلم کو پھاڑ کر انہیں مزید بڑھنے سے روکتے ہیں۔ اگر اس میں مزید کامیابی ملتی ہے تو اینٹی بایوٹکس سے مزاحمت کی باتیں قصہ پارینہ ہوجائیں گی‘۔

اس تکنیک کو اسپرے میں بدل کر طبی پیوند اور آلات کو بیکٹیریا سے محفوظ بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کا بھی امکان ہے کہ کامیابی کی صورت میں فنگل انفیکشن، بدن سے کولیسٹرول کاٹنے اور خود کینسر کے خاتمے میں کامیابی مل سکے گی۔

Please follow and like us: