چیف بیزوس کے دورے نے آداب میزبانی سے ناآشنا مودی سرکار کے بھونڈے پن کا پردہ فاش کردیا (فوٹو : فائل)

نئی دلی: ای کامرس کی سب سے مقبول اور منافع بخش کمپنی ایمازون کے امیر ترین مالک جیف بیزوس کو آدابِ میزبانی سے ناآشنا مودی سرکار کے دور حکومت میں بھارت کا غیر اعلانیہ دورہ کرنا مہنگا پڑ گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایمازون کے مالک کا دورہ بھارت پہلے ہی روز سے غیر منظم رہا، مودی سرکار کی انتظامیہ کے بھونڈے پن سے ایمازون کے مالک کو سخت کوفت اور پریشانیوں کا سامنا رہا۔

پہلے تو ایک خصوصی تقریب میں ان کی آمد کے انتظامات میں تاخیر کی گئی جس پر انہوں نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے بھی کہا کہ میں ان چیزوں کا عادی نہیں۔ دوسرے حکومتی وزراء میں سے بھی کسی نے جیف بیزوس سے ملنے کی زحمت تک نہیں کی۔

سفارتی آداب سے بے نیاز وزیراعظم نریندر مودی نے بھی ایمازون کے مالک سے وقت کی کمی کا بہانہ بناتے ہوئے ملنے سے معذرت کرلی، ملکی وزیراعظم و حکومتی زعماء کا سرد رویہ بھی حریف مقامی تاجروں کے ایمازون کے خلاف مظاہروں کی حوصلہ افزائی کا باعث بنا۔

جیف بیزوس کے کے دورے کے دوران اُن کے لیے سب سے تکلیف دہ بات بھی یہی تھی کہ چند مقامی تاجروں نے ایمازون کو ’دوسری ایسٹ انڈیا کمپنی‘ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف مظاہرہ کیا اور ایمازون کمپنی کے پتلے جلائے۔

تاجروں کے احتجاج پر بھارتی حکومت کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا رہا جس کے بعد سوئی ہوئی حکومت جاگی اور مظاہرہ کرنے والے تاجروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا۔

Please follow and like us: