امریکی اداروں نے 6 ہزار عام ادویہ پر تحقیق کے بعد 50 ادویہ کو کینسر کے خلاف مفید پایا ہے۔ فوٹو: فائل

ہارورڈ: ایک نئے مطالعے سے لگ بھگ 50 سے زائد ایسی دواؤں میں کینسر کے خلاف علاج کی خاصیت دریافت ہوئی ہیں جو کینسر کے علاج کے لیے نہیں بنائی گئی تھیں۔

ان دواؤں میں ذیابیطس، اندرونی جلن، شراب نوشی چھڑانے اور یہاں تک کہ پالتو کتوں کی ہڈیوں کے علاج کی دوائیں بھی شامل ہیں۔ لیکن ان سب میں ایک قدر مشترک ہے کہ ان پرانی دواؤں میں سرطان ختم یا کم کرنے کی کم یا زیادہ صلاحیت موجود ہے۔

میساچیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) میں واقع بروڈ انسٹی ٹیوٹ اور ہارورڈ میں واقع ڈینا فاربر کینسر انسٹٰی ٹیوٹ کے سائنسدانوں نے مجموعی طور پر 6000 دواؤں کا جائزہ لیا ہے جو عام استعمال ہورہی ہیں۔ ان میں سے 50 ادویہ کینسر کے خلاف مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔ اس طرح شاید کینسر کے خلاف لڑائی میں ہماری رفتار بڑھ سکے اور یوں ہم بہتر دوائیں بنانے کے قابل بھی ہوجائیں گے۔

اس ضمن میں ٹوڈ گولب نامی ماہر نے بتایا کہ دنیا بھر کی تجربہ گاہیں برسوں اس کوشش میں ہیں کہ کینسر کے خلاف کوئی مرکب مل جائے اور اب اس طرح کئی درجن ادویہ ہمارے سامنے ہیں جو ایف ڈی اے کی منظوری کے بعد دنیا بھر میں استعمال ہورہی ہیں۔ اس طرح پہلی مرتبہ ادویہ کی اتنی بڑی تعداد کو سرطان کے لیے جانچا گیا ہے۔

ماہرین نے کینسر لائن انسائیکلوپیڈیا (سی سی ایل ای) میں سے 578 مختلف اقسام کے کینسر کے خلیات کو شناخت کرکے ادویہ کو ان پر آزمایا ہے اور امید افزا نتائج ملے ہیں۔ اکثر ادویہ کینسر کی وجہ بننے والے پروٹین کو روکنے میں مؤثر پائی گئی ہیں۔

Please follow and like us: