یہ سولر پینلز رات کے وقت زمین سے خارج ہونے والی گرمی کو بجلی میں تبدیل کریں گے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

میری لینڈ: کیا کوئی ایسا سولر پینل بنایا جاسکتا ہے جو دن کے وقت سورج کی روشنی سے اور رات کے اندھیرے میں زمین کی گرمی سے بجلی بناسکے؟ میری لینڈ یونیورسٹی، امریکا کے ماہرین کہتے ہیں کہ اس سوال کا جواب ’’ہاں‘‘ میں ہے۔

سائنسی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو دن کے وقت سورج سے زمین تک صرف روشنی ہی نہیں پہنچتی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ گرمی بھی پہنچتی ہے جسے ہم دیکھ تو نہیں سکتے لیکن محسوس ضرور کرسکتے ہیں۔

عام سولر پینل، دن کے وقت میں سورج کی روشنی جذب کرکے اسے بجلی میں تبدیل کرتے ہیں لیکن گرمی ان کے کسی کام کی نہیں ہوتی۔

البتہ، دن میں زمین پر پڑنے والی دھوپ اور گرمی سے زمین بھی گرم ہوجاتی ہے۔ رات کے وقت زمین سے یہ گرمی خارج ہوتی ہے اور واپس خلاء کا رُخ کرتی ہے، جو رات کے وقت زمینی سطح کے مقابلے میں خاصی ٹھنڈی ہوتی ہے۔

یہی وہ گرمی ہے جسے استعمال کرتے ہوئے بجلی بنائی جاسکتی ہے؛ اور یہی وہ عمل ہے جسے سائنسدانوں نے ’’آپٹیکلی کپلنگ ود ڈیپ اسپیس‘‘ کا نام دیا ہے۔

اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کےلیے ماہرین روایتی سولر سیلز کے ساتھ کچھ غیر روایتی مادّے بھی شامل کرنے پر کام کررہے ہیں جو مرکری (پارے) یا ایسی ہی کسی دھات پر مشتمل ہوں گے۔

دن کے اوقات میں یہ سولر پینلز دھوپ سے بجلی بنائیں گے جبکہ رات میں زمین سے اٹھتی گرمی استعمال کرتے ہوئے بھی بجلی بنانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

البتہ، رات کے وقت ایسے ’’ریورس سولر پینلز‘‘ سے بجلی کی خاصی کم مقدار بنے گی لیکن پھر بھی وہ ایسے بہت سے کاموں میں مفید رہے گی جنہیں کم توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

دن اور رات میں مسلسل بجلی بنانے والے یہ ریورس سولر پینلز کب تک تیار ہوجائیں گے؟ اس بارے میں کچھ بھی کہنا فی الحال قبل از وقت ہے کیونکہ میری لینڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ابھی تو اس تصور کی عملی صورتوں کو بالکل ابتدائی طور پر بیان کیا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ آئندہ چند سال کے اندر اندر ہی کامیابی ہمارے قدم چوم لے؛ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ریورس سولر پینلز کا خواب اگلے کئی برسوں تک شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے… غرض کچھ بھی ہوسکتا ہے اس لیے امید بھی رکھیے، لیکن ذرا سنبھل کر!

Please follow and like us: