ساس کا خوف حد سے بڑھ جائے تو نفسیاتی مسئلہ بن جاتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ

نیویارک: ساس بہو اور ساس داماد کی باہمی رنجش کوئی نئی بات نہیں لیکن اگر معاملہ حد سے بڑھ جائے تو یہ نفسیاتی مسئلہ بھی بن جاتی ہے جسے سائنسی زبان میں ’’پنتھیرافوبیا‘‘ یعنی ’’ساس کا خوف‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں بالعموم اور برصغیر پاک و ہند میں بالخصوص نہ صرف ساس اور بہو بلکہ ساس اور داماد کے درمیان بھی مستقل تناؤ کی کیفیت رہتی ہے؛ اور یہ سسرالی رشتہ ہمیشہ تلخیوں کا شکار ہی رہتا ہے۔ نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تناؤ اور تلخیاں معمول کی باتیں ہیں لیکن اگر داماد یا بہو میں درج ذیل علامات موجود ہوں تو پھر ہم اسے بجا طور پر نفسیاتی مسئلہ قرار دے سکتے ہیں:

ساس کا بہت زیادہ خوف یا ساس سے شدید نفرت، جو مسلسل برقرار رہے؛

ساس کی موجودگی میں بوکھلاہٹ یا شدید تشویش میں مبتلا رہنا؛ اور

ساس سے بچنے، دُور رہنے یا ہر ممکن طور پر رابطہ نہ کرنے کی کوشش کرنا۔

اگر کسی مرد یا خاتون میں یہ علامات موجود ہیں تو اسے اپنے دوستوں یا سہیلیوں میں بیٹھ کر اس بارے میں باتیں کرنے کے بجائے کسی نفسیاتی معالج سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ یہ نفسیاتی مسئلہ حل کیا جاسکے، نہ کہ اس کا شکار ہو کر رشتے میں کڑواہٹ بڑھائی جائے اور خود اپنے لیے مزید پریشانیاں پیدا کی جائیں۔

ضروری نہیں کہ ساس کے خوف کی کوئی وجہ بھی ہو۔ کئی مرتبہ یہ خوف بغیر کسی بڑی وجہ کے بہت زیادہ اعصاب پر سوار ہوجاتا ہے جس کے پسِ پشت کئی ایک اسباب کارفرما ہوسکتے ہیں۔

قارئین کی دلچسپی کے لیے بتاتے چلیں کہ پنتھیرافوبیا کی طرح اور بھی کچھ نفسیاتی مسائل ہیں جن کا تعلق انسانی رشتوں سے ہے۔ ان میں سوسیرا فوبیا (سسرال والوں کا خوف)، وٹریکو فوبیا (سوتیلے باپ کا خوف) اور نوورسا فوبیا (سوتیلی ماں کا خوف) زیادہ مشہور ہیں۔ پنتھیرا فوبیا کا تعلق بھی اسی قسم کے فوبیاز سے ہے۔

Please follow and like us: