گیس لوڈشیڈنگ کی وجہ سے 30 فیصد ورکرز بے روزگارہوگئے ، سربراہ  کراچی انڈسٹریل فورم

کراچی: مقامی ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدی صنعتوں کو گیس کی فراہمی میں عدم تسلسل کے باعث گزشتہ 13 ماہ کے دوران مجموعی قومی پیداوار میں30 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔

ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کے باخبر ذرائع نے ایکسپریس کوبتایا کہ جنوری 2019 سےجنوری2020 کے دوران کراچی کی ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کی صنعتوں کو 99 دن گیس فراہم نہیں کی گئی، 26 دن باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرکے گیس کی لوڈشیڈنگ  کی گئی جب کہ 73دن ان صنعتوں کو کم پریشر کے ساتھ گیس سپلائی کی گئی، ان عوامل کے سبب برآمدی مصنوعات کی پیداوار میں 27تا 30فیصد کی کمی واقع ہوئی۔

اس ضمن میں کراچی انڈسٹریل فورم کے سربراہ محمد جاوید بلوانی نے ایکسپریس کو بتایا کہ زیر تبصرہ مدت میں 12 دن گڈز ٹرانسپورٹرز کی بھی ہڑتال ہوئی جس کی وجہ سے برآمدی صنعتوں کو اپنے کنسائمنٹس کی تکمیل اور ترسیل میں 4 ماہ کی تاخیر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کی صنعتوں کو گیس کی فراہمی عدم تسلسل کے باعث ان صنعتوں میں اوسطا ایک شفٹ تقریبا ختم ہوچکی ہے جس کے نتیجے میں ان صنعتوں میں یومیہ اجرت پر خدمات انجام دینے والے 30 فیصد ورکرز بے روزگارہوگئے ہیں۔

جاوید بلوانی نے بتایا کہ صنعتوں کو گیس کی فراہمی میں عدم تسلسل، سیلز ٹیکس ریفنڈز کی عدم ادائیگیوں سمیت دیگر متعلقہ مسائل سے اس شعبے کی چھوٹی وسرمیانی درجے کی صنعتوں کی بقاء کو خطرے میں ڈال دیا ہے جب کہ شعبے کی تمام صنعتوں کے پاس 100فیصد پیداواری صلاحیت کے باوجود وہ بمشکل 50 تا 60 فیصد استعداد پر آپریشنل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کی صنعتوں کو اگر گیس کی تسلسل سے فراہمی شروع کی جائے تو یہ شعبہ نہ صرف ملکی برآمدات میں اضافے کا باعث بن سکتاہے بلکہ جی ڈی پی میں بھی 30فیصد اضافے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔

Please follow and like us: