امریکا ایران تعلقات میں 2018کے بعد مزید کشیدگی آئی۔ فوٹو، فائل

دبئی: ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکی دباؤ میں آکر مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔

روحانی کا کہنا تھا کہ ایران کو دباؤ میں لانے کے لیے امریکا ہر ممکن کوشش کرچکا ہے لیکن اسے کام یابی حاصل نہیں ہوسکی۔ امریکا مذاکرات کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے لیکن ایران کبھی اس دباؤ سے پسپا ہوکر بات چیت نہیں کرے گا۔ انہوں ںے کہا کہ ایران کے بغیر مشرقی وسطی اور خلیج فارس میں میں امن و استحکام نہیں آسکتا۔

2018میں ایران اور دنیا کی چھ طاقتوں کے مابین ہونے والے معاہدے سے صدر ٹرمپ کے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہوئی۔ ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ ایران اپنے میزائل پروگرام سے دست بردار ہوکر نئے معاہدے پر مذاکرات کرے۔ تاہم ایران کا اصرار ہے کہ اقتصادی پابندیاں ختم کرکے  پہلے سے موجود جوہری معاہدے کی پاس داری کی جائے۔

Please follow and like us: