کشمیر میں انٹرنیٹ پر دنیا کی بدترین سنسر شپ عائد ہے۔ فائل فوٹو۔

نئی دہلی: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے وی پی این کا استعمال کرنے والوں کے خلاف مقدمات دائر کرنا شروع کردیے۔

پولیس سوشل میڈٰیا کی ویب سائٹس تک ورچوئل پرائیوٹ نیٹ ورک (وی پی این) کے ذریعے رسائی حاصل کرنے اور بھارتی مظالم کا پردہ چاک کرنے والوں کے خلاف بڑے پیمانے پر  کارروائی کا آغاز کرچکی ہے۔

قابض حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر آزادی کے حق میں آواز اٹھانے والوں کے خلاف  انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔ اس قانون کے تحت مودی سرکار کسی بھی فرد کو ’دہشت گرد‘ قرار دے سکتی ہے۔

سری نگر میں بھارتی پولیس کے سائبر ڈویژن کے سربراہ طاہر اشرف کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر علیحدگی پسندی کے حق میں مواد شیئر کرنے والے سیکڑوں صارفین کی نشاندہی کرلی گئی ہے اورپوچھ گچھ کا آغاز کردیا گیا ہے تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں کی گئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس اگست میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی ترمیم کے بعد کشمیرمیں انٹرنیٹ پر پابندی عائد کردی گئی تھی اور 70لاکھ کشمیریوں کا  دنیا سے رابطہ کاٹ دیا گیا تھا۔ 25جنوری کو جزوی طور پر انٹر نیٹ کی بحالی کے باوجود فیس بک، واٹس ایپ اور ٹوئیٹر جیسے سوشل میڈٰیا پلیٹ فورم پر تاحال پابندی عائد ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی اظہار پر دنیا کی بدترین پابندیاں عائد ہیں اور اب سوشل میڈیا صارفین کے خلاف مقدمات درج کرنے کے اقدامات سے بھارتی حکومتی جبر میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔

Please follow and like us: