ماسک کی قلت اور ارزاں نرخوں پر چیف سیکریٹری، سیکریٹری صحت، کمشنر کراچی و دیگر کو نوٹس جاری

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے شہر میں ماسک کی قلت اور مہنگے داموں فروخت سے متعلق  چیف سیکریٹری، سیکریٹری صحت، کمشنر کراچی و دیگر کو نوٹس جاری کردیئے۔

جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس یوسف علی سعید پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو شہر میں ماسک کی قلت اور مہنگے داموں فروخت سے متعلق سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف دیا کہ کورونا وائرس کا کیس سامنے آنے کے بعد شہر میں خوف قائم ہے، وائرس سے بچنے کے لیے بطور احتیاطی تدابیر ماسک پہننے کی ہدایات دی گئی ہیں، شہر میں ماسک موجود ہی نہیں ہے اچانک قلت ہوگئی ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ جہاں ماسک دستیاب ہیں ان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں اور 300 روپے میں فروخت ہونے والا ماسک 800 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، ماسک کی قلت کی وجہ سےشہری بہت زیادہ پریشان ہیں، عدالت ماسک کا مصنوعی بحران پیدا کرکے انہیں بلیک میں فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریماکس دیئے کس نے کہا کہ کورونا سے بچنے کے لیے ماسک پہننے کی ضرورت ہے، کل آپ نے ڈاکٹر کی پریس کانفرنس نہیں سنی؟ شہر میں ماسک مل تو رہے ہیں، کمرہ عدالت میں بھی بچی نے ماسک پہنا ہوا ہے۔ عدالت نے بچی سے استفسار کیا بیٹا آپ نے ماسک کہاں سے لیا ہے؟ جس پر بچی نے بتایا کہ مارکیٹ سے ملا ہے اور  بہت مشکل سے، بچی کے جواب پر کمرہ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے ماسک بیچنے کا نیا طریقہ نکالا گیا ہے، لوگوں میں خوف پیدا کردیا گیا ہے۔ عدالت نے ریماکس دیئے بتایا جائے کہ ماسک کی اچانک قلت کیسے ہوگئی؟ ماسک دگنی قیمتیوں میں کیوں فروخت ہورہا ہے؟ وضاحت کی جائے۔ عدالت نے چیف سیکریٹری، سیکریٹری صحت، کمشنر کراچی اور دیگرکو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 6 مارچ تک ملتوی کردی۔

Please follow and like us: