کونکارڈیا یونیورسٹی کے ماہرین نے کہا ہے کہ موٹاپا عین بڑھاپے جیسی کیفیات پیدا کرتا ہے (فوٹو: فائ

ٹورانٹو: کیا موٹے لوگ دیگر افراد کے مقابلے میں تیزی سے بوڑھے ہوسکتے ہیں؟ ایک نئے سروے سے یہ حیرت انگیز بات سامنے آئی ہے کہ موٹاپا بڑھاپے کو تیزی سے بڑھاتا ہے اور اس سے عمررسیدگی سے وابستہ امراض بھی وقت سے پہلے نمودار ہوسکتے ہیں۔

اس ضمن میں کینیڈا کی یونیورسٹی آف کونکارڈیا کے ماہرِ غذائیات پروفیسر سلیویا سانتوسا اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ موٹاپا اور بڑھاپا ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ جو لوگ فربہ ہوتے ہیں وہ دیگر افراد کے مقابلے میں جلد بوڑھے ہونے لگتے ہیں۔

اس کی وجہ بتاتے ہوئے سائنس دانوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ موٹاپے اور بڑھاپے کا طریقہ کار اور جسمانی کیمائی عمل یکساں ہوتا ہے۔ اس ضمن میں انہوں ںے ایک دو نہیں بلکہ 200 سے زائد ایسے مطالعات کا جائزہ لیا ہے جن میں موٹاپے، خلوی ٹوٹ پھوٹ، سالماتی کیفیات اور اس کے امنیاتی، دماغی اور دیگر عوامل پر اثرات کو نوٹ کیا ہے۔

اپنی تحقیق میں انہوں نے بڑھاپے کو موٹاپے کا عکس قرار دیا ہے لیکن تشویش ناک بات یہ ہے کہ موٹاپا وقت سے پہلے ہی اس کے شکار کو ایسی بیماریوں میں جکڑ سکتا ہے جو بزرگی میں حملہ کرتی ہیں۔ یعنی بڑھاپے کے ظاہری اثرات بعد میں ظاہر ہوتے ہیں مگر اس سے وابستہ بیماریاں پہلے ہی آگھیرتی ہیں۔

ماہرین کا یہ مطلب نہیں کہ بڑھاپا اور موٹاپا ہم معنی ہیں، بلکہ ایک حد تک یہ دونوں ایک سکے کے دورخ ہیں اور ساتھ ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔

مثلاً موٹاپے سے پورے جسمانی نظام میں سوزش بڑھتی ہے، مائٹو کونڈریائی عمل متاثر ہوتا ہے یا پھر امنیاتی نظام کمزور ہوجاتا ہے اور عین یہی علامات بڑھاپے میں بھی رونما ہوتی ہیں۔

اس وقت دنیا میں دو ارب سے زائد افراد موٹاپے کے شکار ہیں اور اس لحاظ سے یہ تحقیق بہت اہمیت رکھتی ہے۔ موٹاپے پر قابو پاکر کئی امراض کو روکا جاسکتا ہے اور دنیا بھر کے ہسپتالوں سے مریضوں کے بوجھ کو کم کیا جاسکتا ہے۔

Please follow and like us: