امریکی ایف ڈی اے نے ہنگامی صورتحال کےپیشِ نظر ملیریا کی دو ادویہ کے استعمال کی باقاعدہ منظوری دیدی ہے۔ فوٹو: فائل

 واشنگٹن: امریکا نے کئی دہائیوں سے ملیریا کے خلاف استعمال ہونے والی عام دوا کو کووڈ19 مرض کے لیے استعمال کرنے کی منظوری دیدی ہے۔

ان دواؤں میں کلوروکوائن اور ہائیڈروکسی کلوروکوائن سرِ فہرست ہیں جو اس سے قبل فرانس اور دیگر ممالک میں اپنی افادیٹ ثابت کرچکی ہیں۔ ایک جانب تو مرض کی شدت بھی کم کرتی ہیں تو دوسری جانب مریض کے ہسپتال میں رہنے کا دورانیہ بھی گھٹ جاتا ہے۔

اس کی باقاعدہ منظوری ایف ڈی اے نے دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ یہ دوا ہسپتالوں میں داخل نوعمر اور بالغ افراد کو ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق اس وقت دی جائیں جب طبی آزمائشیں (کلینکل ٹرائلز) دستیاب نہ ہوں۔‘ واضح رہے کہ امریکا میں ان ادویہ کا اچھا خاصا ذخیرہ موجود ہے۔

ایک ہفتے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سائنسدانوں کی مخالفت اور میڈیا کی تشہیر کے باوجود ان دواؤں کو ’تحفہ خداوندی‘ قرار دیا تھا۔

اس ضمن میں امریکا میں وبائی امراض کے ممتاز ماہر اینتھونی فوشی سمیت کئی ماہرین عوام سے کہہ چکے ہیں کہ جب تک بڑی طبی آزمائشیں چھوٹے سے مطالعے کی تصدیق نہ کردیں تو اس وقت تک ان ادویہ کے استعمال میں محتاط رہا جائے۔ امریکہ کے دو بڑے طبی ادارے اس وقت  کلوروکوائن اور ہائیڈروکسی کلوروکوائن کی بڑے پیمانے پر طبی آزمائش کی تیاری کررہے ہیں۔

دیگر ماہرین فکرمند ہیں کہ کسی سے مشورہ کئے بغیر صدر ٹرمپ کی جانب سے اس دوا کا نام لینے اور افادیت  سے ان کی قلت ہوجائے گی جس سے جلدی مرض لیوپس اور گٹھیا کے مریض شدید متاثر ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ بھی یہ دوائیں استعمال کرتے ہیں۔

صرف امریکا میں ہی اس وقت کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار تک جاپہنچی ہے اور اب تک 2400 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

Please follow and like us: