انسان کا سوشل ہونا کسی نعمت سے کم نہیں ہے اس بات کا اندازہ آج بہت شدت سےہوا جب ایک دوست سے فون پر بات ہوئی بے چاری بروکن فیملی سے تعلق رکھتی ہے اور اکیلی رہتی ہے اس نے کرونا وائرس کو دماغ پر بہت حاوی کیا ہوا تھا اور دوران گفتگو وہ رونے لگی کہتی دل کرتا ہے کہ خود کشی کرلوں ۔ خیر اس کو بہت سمجھایا اور تسلی دی لیکن ساتھ ہی احساس ہوا کہ کس قدر مشکل وقت ہے یہ ان لوگوں کے لیے جو اکیلے رہتے ہیں اور کرونا کی وجہ سے گھروں میں مقید ہیں ۔عام روٹین میں ایسے لوگ بہت سے دوستوں کے ساتھ میل جول رکھتے ہیں اورزیادہ وقت باہر گزارتے ہیں اس سے ان کو اپنے اکیلے پن کا احساس نہیں ہوتا لیکن اب سوشل لاک ڈاؤن کی وجہ سے ایسے دوست اکیلے پن کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ شکر ہے کہ پاکستان میں جوائنٹ فیملی سسٹم نے ابھی دم نہیں توڑا ہم لوگ اپنے خاندان کے ساتھ رہتے ہیں جہاں ایک آدھ درجن بہن بھائی بھی ہوتے ہیں جن کے ساتھ وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوتا لیکن مغربی ممالک جہاں اکیلے رہنے کا رجحان ہے وہ لوگ شدید کرب کا شکار ہیں۔ پاکستان میں زیادہ نہیں لیکن پھر بھی کافی لوگ کاروبار ، روزگار اور تعلیم کی وجہ سے اپنی گھروں سے دور شہروں میں اکیلے رہتے ہیں ۔ پہلے پہل تو لاک ڈاؤن کا وقت تیزی سے اس امید پر گزر گیا کہ دو ہفتوں کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن اب لاک ڈاؤن کا نا ختم ہونے والا سلسلہ اور کرونا وائرس کر مریضوں کی بڑھتی تعداد نے نروس سسٹم کو کافی متاثر کیا ہے۔
کرونا کے خوف کے ساتھ ساتھ انسان کا جذباتی علاج ( ایموشنل ہیلینگ) بھی ایک بڑا چیلنج ہے جو ان کوشدید قسم کے سٹریس کی طرف لے کر جا رہا ہے ۔ ہم میں سےاکثر لوگ یہ جانتے ہیں کہ اکیلا پن اور بیماری کا خوف دل کی بیماری اور ہائی بلڈ پریشرکی شروعات کرتا ہے ۔ جہاں اکیلا پن آپ کو اخلاقیات سکھاتا ہے اسی طرح زیادہ اکیلا پن آپ کو بیمار اور سائیکو بنا دیتا ہے ۔ بریگم ینگ یونیورسٹی کے ایک نیورولاجسٹ نے حالیہ کرونا وائرس کے دوران سوشل ڈسکونیکٹ کی مد میں ایک تجزیہ کیا ہے جس کے مطابق 26 فیصد ارلی ڈیتھس کی وجہ سوشل آئسولیشن ہے۔ اور 29 فیصد سوشل آئسولیشن انسان کو اخلاقیات کا درس دیتی ہے ۔ اور اس تجزیہ میں عمر ، جنس اور کلچر اور ملک کی کوئی قید نہیں ہے ۔
اکیلا پن صرف ایک احساس نہیں ہیں بلکہ یہ ایک حیاتیاتی انتباہ (بائیولاجیکل وارننگ) ہے ۔ جس میں انسان شدت سے دوسرے انسان کو تلاش کرتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح بھوک میں خوراک کی تلاش ہوتی ہے اور پیاس میں پانی کی۔ اور اس کے نہ ملنے پرڈپریشن اور ذہنی خرابی کا دباؤاتنا بڑھ جاتا ہے جو کہ ٹرومیٹیک سٹریس (ذہنی اذیت) کو جنم دیتا ہے اور انسان کو ایک خطرناک موڑ پر لے آتا ہے جہاں انسان جسمانی تشدد پر اتر آتا ہے اور خود کشی کی کوشش کرتا ہے ۔ اس حالت میں صرف اور صرف تنفیہ نفس (کیتھارسس) ہی انسان کو واپس نارمل حالت میں لا سکتا ہے ۔ تنفیہ نفس (کیتھارسس) ایک ایسا عمل ہے جو نفسیات کے مریض کے ذہین سے معلومات نکالتا ہے یہ ایک شفا بخش عمل ہے جس کو سا‏ئیکاٹرس مریض پر استمعال کر کے اس کو نارمل کرنے کے کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے مذہب اسلام نے تنفیہ نفس (کیتھارسس) کا طریقہ پانچ وقت نماز، تلاوت قرآن مجید، وضو، روزہ اور سجدے میں پوشیدہ رکھا ہے ۔ جو بہت شفا بخش عمل ہے اور انسان کو ذہنی دباؤ اور بے چینی سے چھٹکارا دلاتا ہے الحمدللہ ۔ اکیلے پن کے باعث انسان خود کوبے بس محسوس کرتاہے اور کسی بھی کام میں اپنی دلچسپی کو کھو دیتا ہے اس کے علاوہ بھوک میں کمی ، نیند میں کمی توانائی کی کمی ، ذہنی دباؤ کی واصغ نشانیاں ہیں۔
اب بات کرتے ہیں کہ ہم کرونا وائرس کے دوران اکیلے پن اور ان ذہنی دباؤ کے اثرات سے کیسے چھٹکارا پا سکتے ہیں اس کے لیے ہمیں چاہیے کہ جتنا ہوسکے اللہ کے قریب ہوں، دوستوں سے بزریعہ انٹرنیٹ رابطے میں رہیں ان کو فون کریں ویڈیو کال کریں اور بات چیت کریں گھر میں خود کو چھوٹے چھوٹے کاموں میں مصروف کریں جو ہم نارمل روٹین میں نہیں کرپاتے ۔ دن کو ٹا‏ئم ٹیبل کے مطابق گزاریں اور تخلیقی کام کریں جیسا کہ مصوری، نیٹنگ، باغبانی ، کیونکہ جتنا ہم قدرت کے قریب ہوں گے ہمارا دماغ کو ترواہٹ اور تازگی ملے گی۔ اس لاک ڈاؤن کے دوران ہمیں ایسے رضاکار جو کہ ماہر نفسیات ، سائکالوجیسٹ ، تھراپسٹ اور اسلامی سکالرز، جو کہ روحانی علاج میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں، کی ضرورت ہے۔ میڈیا سے التماس ہے کہ ریڈیو اور ٹی وی چینلز پر ان لوگوں کو بلائیں تاکہ وہ لوگوں کی اس دوران مدد کر سکیں اپنے رابطہ نمبرز کو مریضوں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ وہ ضرورت کے وقت ان کو کال کر سکیں اور آن لائن ان کی تھراپی اور کونسلینگ سیشن کریں اور عام لوگوں کو ایجوکیٹ کریں تاکہ وہ اپنے قریبی دوستوں کا خیال رکھ سکیں۔
لوگوں کو جان بوجھ کر ڈپریشن مت دیں بلکہ اس وقت ان کی دل جوئی کریں ان کی مدد کریں ابھی ہم نے سنا کہ آپ نیوز چینل کو میڈیا مالکان نے بند کر دیا اور سینکڑوں ورکرز اور صحافیوں کو بے روزگارکر دیا۔ میڈیا مالکان کو چاہیے کہ وہ اس وقت ، وقت کی نزاکت کو سمجھیں خدارا کسی کوبھی بے روزگار نہ کریں کیونکہ آپ کے اس عمل سے لوگ ڈپریشن اور انزئٹی کا شکار ہوں گے ۔ یہ وقت آپ کی سماجی ذمہ داری پورا کرنے کا ہے۔ دنیا کے معملات کو احسن طریقے سے انجام دیں کیونکہ اسی طرح کسی کی بددعا لینے سے آپ خود بھی ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں ۔

Please follow and like us: