کشمیر لاک ڈاؤن ،،، لاک ڈاؤن دی ورلڈ
سینئر صحافی و تجزیہ کار
صاحبزادہ محمد سلیمان خان

یوں تو مقبوضہ کشمیر کے عوام ستر سال سے آزادی کیلئے جدو جہد کر رہے ہیں ،، لیکن گذشتہ تیس سالوں میں تحریک آزادی کشمیر میں شدت دیکھنے میں آئی ،،اور ان تین دہائیوں میں بھارتی فوج نے ایک لاکھ افراد کو شہید کر دیا

تاہم 2019 مقبوضہ کشمیر کے عوام کیلئے بد ترین ثابت ہوا،، جب 5 اگست کو مودی حکومت نے کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم کر کے وادی کو لاک ڈاؤن کر دیا ،،بھارتی سر کار کے گہناؤنے وار کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی ،، ،، پاکستانی و کشمیری کمیونٹی سمیت انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیموں نے دنیا بھر میں احتجاج کیا ،، لاک ڈاؤن جاری رہا،،، مظاہرین نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مودی حکومت کو جبری اقدام واپس لینے پر مجبور کریں ،،لیکن لاک ڈاؤن جاری رہا

اس عرصے میں پاکستانی وزیر اعظم نے امریکہ کا دورہ کیا ،، لاک ڈاؤن جاری رہا،،، امریکی صدر نے بھارت کا دورہ کیا ،،، لاک ڈاؤن جاری رہا، ، دنیا بھر میں اقوام عالم کی نمائندہ تنظیم اقوام متحدہ کے سیکریٹر ی جنرل پاکستان میں چار دن تک رہے ، ،لاک ڈاؤن جاری رہا ، ،، وہ کرتاپور گر دوارہ تو گئے ،،، پر کشمیر نہ جا سکے ،، ایسے میں لاک ڈاؤن جاری رہا ،،، ،، برطانوی ایم پی ڈیبی ابراہم اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھارت گئیں ،، انھیں ڈی پورٹ کر دیا گیا ،، لاک ڈاؤن جاری رہا،،
دنیا بھر میں کشمیریوں کی آواز دبا دی گئی ،، لاک ڈاؤن جاری رہا،،، ، شہہ رگ کو مزید دبانے والا،،، طعنے دینے لگا،، اور لاک ڈاؤن جاری رکھا ،،
جنت جیسی وادی کیلئے احتجاج اور مظاہرے کم ہوتے گئے ،، لاک ڈاؤن جاری رہا ،، مجھ میں انسانیت تڑپ اٹھی ،،،،
دعا کرتا ،،الہٰی ،، دنیا ،،کشمیریوں کا درد بھولنے نہ پائے ،،،، دل میں وسوسے آنے لگے ،، پھر ایک ایسی وبا آئی ،، جس نے سب کو لاک ڈاؤن کی یاد دلائی ،،
وادی کے لاک ڈاؤن کو بھولنے والو ،،،یہ تو ہونا ہی تھا ،،،لاک ڈاؤن ،،لاک ڈاؤن دی ورلڈ

Please follow and like us: