6 ہزار طبی عملے پر مشتمل کھوجی ٹیم کورونا کے مریض کی تلاش میں سرگرداں ہے، فوٹو : فائل

 انقرہ: منہ پر ماسک لگائے اور مکمل حفاظتی لباس میں چھپے ہونے کے باعث ناقابل شناخت افراد اندھیری رات میں اچانک گھر میں گھس آئیں اور اہل خانہ کے پاس تعاون کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ ہو تو سمجھ جائیں یہ کوئی ڈاکو نہیں بلکہ کورونا کا سراغ لگانے والے ’’ ٹریسرز‘‘ یا جاسوس ہیں۔

کورونا کی وبا کا پوری دنیا ہی شکار بن چکی ہے، طبی عملے کو کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ عوام میں موجود ’سازشی نظریات‘‘ اور عدم تعاون سے مقابلہ کرنا ہے۔ سب سے زیادہ پریشانی اس وقت ہوتی ہے جب کورونا کا مریض سامنے آنے پر اس سے رابطے میں رہنے والے قرنطینہ سے بچنے کے لیے سرکاری حکام کو چکمہ دے جاتے ہیں۔

ترکی نے اس گھمبیر مسئلے کا انوکھا مسئلہ نکالا ہے، 6 ہزار طبی عملے پر مشتمل ایک کورونا جاسوسی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جنہیں ٹریسرز کہا جاتا ہے، یہ کورونا وائرس کے مریضوں کے قریبی احباب کی کھوج لگا کر اچانک ’چھاپہ مار‘‘ کارروائی کرتے ہیں۔

مشتبہ مریضوں کا کورونا ٹیسٹ لیکر انہیں قرنطینہ کردیا جاتا ہے، ٹیسٹ کا رزلٹ اگلے روز دیا جاتا ہے اگر ٹیسٹ مثبت آتا ہے تو علاج کے لیے منتقل کردیا جاتا ہے اور پھر اس کے سفری تفصیلات اور ملنے جلنے والوں کی کھوج لگائی جاتی ہے۔ ترکی کے محکمہ صحت نے اس فورس کو کورونا کی روک تھام میں مفید اور کارآمد قرار دیا ہے۔

Please follow and like us: