آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا نے پاکستان میں موجودہ تعلیمی حالات کے بارے میں تفصیلی بات چیت کی اورپرائیویٹ سیکٹر کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا۔وفد نے پرائیویٹ سکولز کی نمائندگی کرتے ہوئے پرائیویٹ سکولز کو درپیش معاملات اور حالات پر گورنر پنجاب کو بریفنگ دی۔ وفد نے کرونا وائرس سے ہونے والے تعلیمی نقصان پر بات کرتے ہوئے ان سےاپیل کی کے آپکے پاس آنے کا مقصد ملک میں موجود پرائیویٹ سکولز کو بچانا ہے جو دن بدن بند ہوتے جا رہے ہیں ۔

کاشف مرزا نے اپیل کی کہSOPs کے تحت دیگر شعبہ جات کی طرح سکولز بھی کھولے جائیں۔پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نےعالمی معیار کے SOPs تیار اورجاری کر دیے ہیں۔سکولز کی ٹائمنگ صبح 7 تا10اور2شفٹ میں سماجی فاصلے کو برقرار رکھ کے کلاسز جاری رکھی جا سکتی ہیں۔نجی سکولز،پیف وپیماسمیت تعلیمی اداروں کی بندش سے50%تعلیمی ادارے مکمل بنداور 10لاکھ لوگ بے روزگار ہوجائینگے۔2.5کروڑ پاکستانی بچےپہلے ہی اپنے آئینی حق سے محروم ہیں۔مزید 5کروڑ طلباکےتعلیمی نقصان کاازالہ ناممکن ہے۔کل7.5 کروڑ پاکستانی بچوں کوآئینی تعلیمی حق سے محروم کردیاگیا،جن میں50 فیصد سے زائد تعداد لڑکیوں کی ہے۔تعلیم ہر بچے کاآئینی حق اور 25-A ریاست کا آئینی فریضہ ہے۔کاشف مرزا نے مزید کہا کہ کرونا سے شدیدمتاثرممالک میں تعلیمی ادارے کھلےہیں،چین کےصوبےووہان،برازیل، سپین، انگلینڈ،انڈیا، ایران، بنگلہ دیش،سری لنکا سمیت امریکہ، روس، ڈنمارک،فرانس، سوئٹزرلینڈ، آسٹریا،آسٹریلیا، نیوزی لینڈ،جرمنی،جاپان،کوریا، سعودی عرب،اسرائیل ،ہانگ کانگ وغیرہ شامل ہیں۔

کاشف مرزا نے گورنر پنجاب کو مزید آگاہ کیا کہ ٹیچرز تنخواہیں اور90فیصد اسکولزعمارتیں کےکرائے فکسُ ہیں۔بند سکولز کو بھی اوسط شرح بنیاد پریوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی ہے۔وزیراعظم ٹیچرز کیلیے’’تعلیمی ریلیف پیکیج‘‘کااعلان کریں۔جبکہ بورڈ امتحانات منسوخ کرنے کی بجائےامتحانات سماجی فاصلے برقرار رکھ کرکیے جائیں۔
وفد نے گورنر پنجاب سے بات کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ اس وقت تقریبا 4000پرائیویٹ سکولز مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں اور بہت سے سکولز بند ہونے کے قریب پہنچ چکے ہیں ۔ یہ بھی کہا گیا کہ اگر وقت پر کوئی بہتر فیصلہ نہ کیا گیا تو پرائیویٹ تعلیمی سیکٹر تباہی کا شکار ہوجائے گا جس سے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا ۔

وفد نے بات کرتے ہوئے گورنر پنجاب سےاپیل کی کہ آپ وزیراعظم، وزراعلیٰ،وفاقی وزیر تعلیم کو اعتماد میں لیں اور ان سے بات کریں کہ اگر جولائی میں سکول نہیں کھول سکتے تو7.5 کروڑ طلبا اورپرائیویٹ تعلیمی سیکٹر کو تباہی سے بچانے کے لیے اگست کے درمیان میں سکول کھولنے کا کوئی لائے عمل تیار کیا جائے۔کاشف مرزا نے آن لائن ایجوکیشن سسٹم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سسٹم ہمارے معاشرے میں فلاپ ہے اور بچوں کو اسکا کوئی فائدہ نہیں ہو رہااور گیلپ سروے کے مطابق 74%والدین بھی سکولز کھولنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نےمسائل کے حل کیلیے یقین دلایا کہ میں NCOCکے چیرمین وزیر اعظم صاحب،وزراء اعلی وتعلیم اور اسد عمر سے بات کرتا ہو ں تاکہ ملک و قوم کوئی اچھا راستہ نکل سکے اور ایجوکیشن سسٹم دوبارہ بحال ہو۔وفد کی قیادت کاشف مرزا صدر آل پاکستا ن پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے کی۔وفد میں شامل دیگر قائدین میں ندیم انور، چوہدری شاہد،حسنین عباس، شاہد نور ،حنیف انجم، شکیل منور اور شائستہ ثمرین شامل تھے۔

Please follow and like us: